خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 83 of 830

خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 83

خطبات مسرور جلد 14 83 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 05 فروری 2016 سستی اور غفلت جاتی رہے۔اس لیے خدا تعالیٰ کی عظمت کو دل میں رکھنا چاہئے اور اس سے ہمیشہ ڈرنا چاہئے۔اس کی گرفت خطر ناک ہوتی ہے۔وہ چشم پوشی کرتا ہے اور در گذر فرماتا ہے۔لیکن جب کسی کو پکڑتا ہے تو پھر بہت سخت پکڑتا ہے یہاں تک کہ لا تخافُ عُقبها (الشمس: 16)۔پھر وہ اس امر کی بھی پروا نہیں کرتا کہ اس کے پچھلوں کا کیا حال ہو گا۔بر خلاف اس کے جو لوگ اللہ تعالیٰ سے ڈرتے اور اس کی عظمت کو دل میں جگہ دیتے ہیں۔خدا تعالیٰ ان کو عزت دیتا اور خود اُن کے لیے ایک سپر ہو جاتا ہے۔حدیث میں آیا ہے مَنْ كَانَ لِلَّهِ كَانَ اللهُ لَ۔یعنی جو شخص اللہ تعالیٰ کے لیے ہو جاوے اللہ تعالیٰ اس کا ہو جاتا ہے۔مگر افسوس یہ ہے کہ جو لوگ اس طرف توجہ بھی کرتے ہیں اور خداتعالی کی طرف آنا چاہتے ہیں ان میں سے اکثر یہی چاہتے ہیں کہ ہتھیلی پر سرسوں جمادی جاوے۔وہ نہیں جانتے کہ دین کے کاموں میں کس قدر صبر اور حوصلہ کی حاجت ہے۔اور تعجب تو یہ ہے کہ وہ دنیا جس کے لیے وہ رات دن مرتے اور ٹکریں مارتے ہیں اس کے کاموں کے لیے تو برسوں انتظار کرتے ہیں۔کسان بیج بو کر کتنے عرصہ تک منتظر رہتا ہے۔لیکن دین کے کاموں میں آتے ہیں تو کہتے ہیں کہ پھونک مار کر ولی بنادو اور پہلے ہی دن چاہتے ہیں کہ عرش پر پہنچ جاویں۔حالانکہ نہ اس راہ میں کوئی محنت اور مشقت اٹھائی اور نہ کسی ابتلا کے نیچے آیا۔فرمایا کہ "خوب یاد رکھو کہ اللہ تعالیٰ کا یہ قانون اور آئین نہیں ہے۔یہاں ہر ترقی تدریجی ہوتی ہے اور خدا تعالیٰ نری اتنی باتوں سے خوش نہیں ہو سکتا کہ ہم کہہ دیں ہم مسلمان ہیں یا مومن ہیں۔چنانچہ اس نے فرمایا ہے کہ " أَحَسِبَ النَّاسُ أَن يُتْرَكُوا أَنْ يَقُولُوا آمَنَّا وَهُمْ لَا يُفْتَنُونَ (العنكبوت: 03) یعنی کیا یہ لوگ گمان کر بیٹھے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اتنا ہی کہنے پر راضی ہو جاوے اور یہ لوگ چھوڑ دیئے جاویں کہ وہ کہہ دیں ہم ایمان لائے اور ان کی کوئی آزمائش نہ ہو۔یہ امر سنت اللہ کے خلاف ہے کہ پھونک مار کر ولی اللہ بنادیا جاوے۔اگر یہی سنت ہوتی تو پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ایسا ہی کرتے اور پھر اپنے جان نثار صحابہ کو پھونک مار کر ولی بنا دیتے۔ان کو امتحان میں ڈلوا کر ان کے سر نہ کٹواتے اور خد اتعالیٰ ان کی نسبت یہ نہ فرما تا کہ مِنْهُم مَّن قَضَى نَحْبَهُ وَمِنْهُمْ مَّنْ يَنْتَظِرُ وَمَا بَدَّلُوا تَبْدِيلًا (الاحزاب:24)" پس ان میں سے وہ بھی ہے جس نے اپنی منت کو پورا کیا اور ان میں سے وہ بھی ہیں جو ا بھی انتظار کر رہے ہیں۔آپ نے فرمایا:" پس جب دنیا بغیر مشکلات اور محنت کے ہاتھ نہیں آتی تو عجیب بے وقوف ہے وہ انسان جو دین کو حلوہ بے دود سمجھتا ہے۔یہ تو سچ ہے کہ دین سہل ہے مگر ہر نعمت مشقت کو چاہتی ہے۔بایں اسلام نے تو ایسی مشقت بھی نہیں رکھی۔ہندوؤں میں دیکھو کہ ان کے جوگیوں اور سنیاسیوں کو کیا کیا کرنا پڑتا ہے۔کہیں ان کی کمریں ماری جاتی ہیں۔کوئی ناخن بڑھاتا ہے۔ایسا ہی عیسائیوں میں رہبانیت تھی۔اسلام نے ان باتوں کو نہیں رکھا بلکہ اس نے یہ تعلیم دی کہ قد أَفْلَحَ مَن زَثْهَا (الشمس: 10) یعنی نجات پا گیا وہ شخص جس نے تزکیہ نفس کیا۔یعنی