خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 82
خطبات مسرور جلد 14 82 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 05 فروری 2016 پس بہت گہرائی میں جا کر معاملات کو دیکھنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ہر ایک اپنے مفادات سے باہر نکل کر اپنی اناؤں سے باہر نکل کر خدا تعالیٰ کے خوف کو سامنے رکھتے ہوئے اپنے معاملات نپٹائے اور اس طرح اپنے معاملات نپٹانے چاہئیں۔اگر یہ سب کچھ نہیں تو جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ یہ سب کچھ حُب دنیا کا اظہار ہے اور حُبّ دنیا جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے تفرقہ کی طرف لے کر جاتی ہے اور تفرقہ سے پھر ظاہر ہے جماعت کی اکائی بھی قائم نہیں رہتی یا کم از کم اس معاشرے میں اس حلقے میں ایک فتنہ پیدا ہو جاتا ہے اور وہ اکائی جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام پیدا کرنے آئے تھے وہ ختم ہو جاتی ہے۔حُبّ دنیا کی وجہ سے ہی باقی فرقے بنے تھے۔اسی طرح کا پھر ایک فرقہ بن جائے گا۔گویا کہ ایک برائی سے کئی برائیاں جنم لیتی ہیں۔جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ برائیاں پھر بچے دیتی چلی جاتی ہیں۔پس احمدی ہو کر ہم پر بہت ذمہ داریاں پڑ رہی ہیں جنہیں ہمیں اپنے سامنے رکھنا چاہئے۔حقیقی احمدی تو وہی ہے جو اسوہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر چلنے کی کوشش کرے اور خدا تعالیٰ کا بننے کی کوشش کرے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام ایک جگہ اسی تسلسل میں جو پیچھے میں نے بیان کیا ہے فرماتے ہیں کہ " یہ خوب یاد رکھو کہ جو شخص خد اتعالیٰ کے لیے ہو جاوے خدا تعالیٰ اس کا ہو جاتا ہے اور خدا تعالیٰ کسی کے دھوکے میں نہیں آتا۔اگر کوئی یہ چاہے کہ ریاکاری اور فریب سے خدا تعالیٰ کو ٹھگ لوں گا تو یہ حماقت اور نادانی ہے۔وہ خود ہی دھو کا کھارہا ہے۔دنیا کی زیب ، دنیا کی محبت ساری خطا کاریوں کی جڑ ہے۔"دنیا کی خوبصورتی اور دنیا کی محبت جو ہے یہ سب خطا کاریوں کی جڑ ہے " اس میں اندھا ہو کر انسان انسانیت سے نکل جاتا ہے اور نہیں سمجھتا کہ میں کیا کر رہا ہوں اور مجھے کیا کرنا چاہئے تھا۔جس حالت میں عقلمند انسان کسی کے دھو کہ میں نہیں آسکتا تو اللہ تعالیٰ کیونکر کسی کے دھو کہ میں آسکتا ہے۔مگر ایسے افعالِ بد کی جڑ دنیا کی محبت ہے اور سب سے بڑا گناہ جس نے اس وقت مسلمانوں کو تباہ حال کر رکھا ہے اور جس میں وہ مبتلا ہیں وہ یہی دنیا کی محبت ہے۔سوتے جاگتے ، اٹھتے بیٹھتے، چلتے پھرتے ہر وقت لوگ اسی غم و ہم میں پھنسے ہوئے ہیں اور اس وقت کا لحاظ اور خیال بھی نہیں کہ جب قبر میں رکھے جاویں گے۔ایسے لوگ اگر اللہ تعالیٰ سے ڈرتے اور دین کے لیے ذرا بھی ہم و غم رکھتے تو بہت کچھ فائدہ اٹھا لیتے۔" فرمایا " سعدی "جو فارسی کا شاعر ہے " کہتا ہے: گر وزیر از خدا بترسیدی کاش وزیر خدا سے ڈر تا۔"ملازم لوگ تھوڑی سی نوکری کے لیے اپنے کام میں کیسے چست و چالاک ہوتے ہیں لیکن جب نماز کا وقت آتا ہے تو ذرا ٹھنڈاپانی دیکھ کر ہی رہ جاتے ہیں۔ایسی باتیں کیوں پید اہوتی ہیں ؟ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ کی عظمت دل میں نہیں ہوتی۔اگر خدا تعالیٰ کی کچھ بھی عظمت ہو اور مرنے کا خیال اور یقین ہو تو ساری