خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 81 of 830

خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 81

خطبات مسرور جلد 14 81 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 05 فروری 2016 شرط ہے۔جیسا کہ فرمایا۔مُخلِصِينَ لَهُ الدِّينَ ( البينة : 6 ) یہ اخلاص ان لوگوں میں ہوتا ہے جو ابدال ہیں"۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے دین کو اللہ تعالیٰ کے لئے خالص کرو۔(ملفوظات جلد 8 صفحہ 351 تا 355) پس اب یہ سب باتیں ہیں جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بیان فرمائی ہیں اور بڑے درد کے ساتھ بیان فرمائی ہیں اور جیسا کہ میں نے بتایا اس حوالے سے بیان فرمائی ہیں کہ حضرت عیسی علیہ السلام کے آسمان سے آنے یا نہ آنے کے عقیدے سے زیادہ اہم یہ بات ہے کہ اپنے آپ کو شرک سے بکلی پاک کرو اور اپنی عملی حالتوں کو ایسا بناؤ کہ شرک کا شائبہ تک نہ ہو۔سچائی کو قائم کرو اور جھوٹ سے نفرت کرو۔اب ان باتوں کو سامنے رکھتے ہوئے ہر احمد ی جائزہ لے مثلاً بعض باتیں ایسی ہیں۔چند بیان کرتا ہوں۔مقدمات میں یہ جائزہ لیں کہ مقدمات میں ہم غلط بیانیوں سے کام تو نہیں لیتے۔پھر ہم کاروباروں میں منافع کی خاطر غلط بیانی سے کام تو نہیں لیتے۔پھر ہم رشتہ طے کرتے وقت غلط بیانیاں تو نہیں کرتے۔کیا ہر طرح سے قول سدید سے کام لیتے ہیں ؟ لڑکے کے بارے میں اور لڑکی کے بارے میں سب معلومات دی جاتی ہیں ؟ حکومت سے سوشل اور ویلفیئر الاؤنس لینے کے لئے جھوٹ کا سہارا تو نہیں لیتے۔اس بارے میں تو بہت سے لوگوں کے بارے میں منفی تاثر پایا جاتا ہے کہ اپنی آمد چھپا کر حکومت سے الاؤنس لیا جاتا ہے اور اسی وجہ سے ٹیکس کی ادائیگی بھی نہیں کی جاتی۔یہاں ٹیکس بھی چوری ہوتا ہے۔ہمیں یاد رکھنا چاہئے کہ اب جو عمومی معاشی حالات دنیا کے ہیں ہر حکومت مسائل کا شکار ہو رہی ہے یا ہو گئی ہے اور اگر نہیں ہوئی تو ہو جائے گی۔اس لئے اب حکومتیں گہرائی میں جا کر حقیقت جاننے کی کوشش کرتی ہیں اور کر رہی ہیں۔پس اگر حکومت کے سامنے کوئی غلط معاملہ آجاتا ہے تو جہاں یہ باتیں اس شخص کے لئے مشکلات پیدا کریں گی وہاں احمدیت کی بدنامی کا باعث بھی بنیں گی اگر یہ پتا ہو کہ وہ شخص احمدی ہے۔پس جو اس لحاظ سے کسی بھی غلط بیانی سے کام لے رہے ہیں وہ دنیاوی فائدے کو نہ دیکھیں۔تھوڑے سے میں گزارہ کر کے جھوٹ سے بیچ کر اللہ تعالیٰ کو راضی کرنے کی کوشش کریں۔پھر اسائلم کے معاملات ہیں اس میں اپنے جائزے لیں کہ غلط بیانی سے کام تو نہیں لیا جارہا۔یقینا و کیل اس کے لئے ابھارتے ہیں اور یہ ہمیشہ سے وکیلوں کا وطیرہ ہے جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بھی فرمایا ہے کہ آپ کو بھی کہا کہ جھوٹ بولیں اور جھوٹے گواہ پیش کر دیں۔اسی طرح عہدیدار بھی اپنے جائزے لیں کہ کیا وہ اپنی رپورٹس میں غلط بیانی تو نہیں کرتے یا کوئی ایسی بات تو نہیں چھوڑ دیتے جس کی اہمیت ہو۔پہلے بھی میں نے ایک دفعہ ایک خطبہ میں کہا تھا کہ پوری طرح قول سدید سے اگر کام نہ لیا جائے تو وہ بھی غلط ہے۔تقویٰ سے کام لیتے ہوئے معاملات نپٹائے جانے چاہئیں۔(ماخوذ از خطبات مسرور جلد 10 صفحہ 539 خطبہ جمعہ فرمودہ 17 ستمبر 2012ء)