خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 80
خطبات مسرور جلد 14 80 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 05 فروری 2016 شیر سنگھ نے اپنے باورچی کو محض نمک مرچ کی زیادتی پر بہت مارا تو چونکہ وہ بڑے سادہ مزاج تھے" یہ استاد جو تھے گل علی شاہ صاحب " انہوں نے کہا کہ آپ نے " اس کو مار کے "بڑا ظلم کیا۔" بیچارے نے کھانے میں نمک ہی زیادہ ڈالا تھاناں " اس پر شیر سنگھ نے کہا۔مولوی جی کو خبر نہیں اس نے میر اسو بکر اکھایا ہے۔اسی طرح پر انسان کی بد کاریوں کا ایک ذخیرہ ہوتا ہے اور وہ کسی ایک موقعہ پر پکڑا جا کر سزا پاتا ہے"۔فرمایا "جو شخص سچائی اختیار کرے گا کبھی نہیں ہو سکتا کہ ذلیل ہو اس لیے کہ وہ خدا تعالیٰ کی حفاظت میں ہوتا ہے اور خدا تعالیٰ کی حفاظت جیسا اور کوئی محفوظ قلعہ اور حصار نہیں" ہے۔" لیکن ادھوری بات فائدہ نہیں پہنچا سکتی۔کیا کوئی کہہ سکتا ہے کہ جب پیاس لگی ہوئی ہو تو صرف ایک قطرہ پی لینا کفایت کرے گا یا شدت بھوک کے وقت ایک دانہ یا لقمہ سے سیر ہو جاوے گا۔بالکل نہیں۔بلکہ جب تک پورا سیر ہو کر پانی نہ پئے یا کھانا نہ کھالے تسلی نہ ہو گی۔اسی طرح پر جب تک اعمال میں کمال نہ ہو وہ ثمرات اور نتائج پیدا نہیں ہوتے جو ہونے چاہئیں۔ناقص اعمال اللہ تعالیٰ کو خوش نہیں کر سکتے اور نہ وہ بابرکت ہو سکتے ہیں۔اللہ تعالیٰ کا یہی وعدہ ہے کہ میری مرضی کے موافق اعمال کرو۔پھر میں برکت دوں گا۔" پھر آپ فرماتے ہیں کہ " غرض یہ باتیں دنیا دار خود ہی بنالیتے ہیں کہ جھوٹ اور فریب کے بغیر گزارہ نہیں۔کوئی کہتا ہے فلاں شخص نے مقدمہ میں سچ بولا تھا اس لیے چار برس کو دھر اگیا۔میں پھر کہوں گا کہ یہ سب خیالی باتیں ہیں جو عدم معرفت سے پیدا ہوتی ہیں۔" فرمایا "کسب کمال کن کہ عزیز جہاں شوی " یعنی کمال حاصل کرتا کہ تو دنیا کا پیارا بن جائے۔یہ اپنی کمزوریاں ہیں جو جھوٹ بلواتی ہیں۔اگر نیکیوں کی طرف توجہ ہو اور انسان اس پر بڑھنے کی کوشش کرے، اللہ تعالیٰ پر تو کل ہو تو پھر یہ سزائیں اس طرح نہیں ملا کر تیں۔فرمایا " یہ نقص کے نتیجے ہیں۔" یہ اپنی کمزوریوں کے جو نقص ہیں اس کے نتیجے ہیں کہ سزائیں ملتی ہیں " کمال ایسے ثمرات پیدا نہیں کرتا۔ایک شخص اگر موٹی سی کھدر کی چادر میں کوئی تو پا بھرے تو اس سے وہ درزی نہیں بن جاوے گا۔" یعنی کوئی ٹانکا لگا دے کھدر کی چادر میں تو اس سے اس کو یہ نہیں کہہ سکتے کہ وہ بڑا اچھا درزی ہے، اس کو سینا آتا ہے " اور یہ لازم نہ آئے گا کہ اعلیٰ درجہ کے ریشمی کپڑے بھی وہ سی لے گا۔اگر اس کو ایسے کپڑے دیئے جاویں تو نتیجہ یہی ہو گا کہ وہ انہیں برباد کر دے گا۔" فرمایا " پس ایسی نیکی جس میں گند ملا ہوا ہو کسی کام کی نہیں۔خدا تعالیٰ کے حضور اس کی کچھ قدر نہیں۔لیکن یہ لوگ اس پر ناز کرتے ہیں اور اس کے ذریعہ نجات چاہتے ہیں۔اگر اخلاص ہو تو اللہ تعالیٰ تو ایک ذرّہ بھی کسی نیکی کو ضائع نہیں کرتا۔اس نے تو خود فرمایا ہے۔مَن يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَّرَةُ ( الزلزال : 8)۔" کہ جس نے ذرہ بھر بھی نیکی کی ہو گی وہ اس کا نتیجہ دیکھے گا اور پھل پائے گا فرمایا اس لئے اگر ذرہ بھر بھی نیکی ہو تو اللہ تعالیٰ سے اس کا اجر پائے گا۔پھر کیا وجہ ہے کہ اس قدر نیکی کر کے پھل نہیں ملتا۔اس کی وجہ یہی ہے کہ اس میں اخلاص نہیں آیا ہے۔اعمال کے لیے اخلاص