خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 79 of 830

خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 79

خطبات مسرور جلد 14 79 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 05 فروری 2016 ایک شخص نے میری ٹوپی اتارنے کے لئے ہاتھ مارا۔میں نے کہا کیا کرنے لگا ہے ؟ تب اس نے ٹوپی کو میرے سر پر ہی رہنے دیا کہ خیر ہے۔خیر ہے۔" (ملفوظات جلد 8 صفحہ 350 تا 353 حاشیہ) حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ "میں کیونکر کہوں کہ جھوٹ کے بغیر گزارہ نہیں۔ایسی باتیں نری بیہودگیاں ہیں۔سچ تو یہ ہے کہ سچ کے بغیر گزارہ نہیں۔میں اب تک بھی جب اپنے اس واقعہ کو یاد کرتا ہوں تو ایک مزا آتا ہے۔" یہ ڈاکخانے والا واقعہ ، عدالت والا واقعہ فرمایا کہ " میں اس واقعہ کو یاد کرتا ہوں تو ایک مزا آتا ہے کہ خدا تعالیٰ کے پہلو کو اختیار کیا۔اس نے ہماری رعایت رکھی اور ایسی رعایت رکھی جو بطور نشان کے ہو گئی۔مَنْ يَتَوَكَّلْ عَلَى اللهِ فَهُوَ حَسْبُهُ (الطلاق:04) - " جو اللہ تعالیٰ پر مکمل تو کل کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے لئے کافی ہو جاتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ : یقین یاد رکھو جھوٹ جیسی کوئی منحوس چیز نہیں۔عام طور پر دنیا دار کہتے ہیں کہ سچ بولنے والے گرفتار ہو جاتے ہیں۔مگر میں کیونکر اس کو باور کروں؟ مجھ پر سات مقدمے ہوئے ہیں اور خدا تعالیٰ کے فضل سے کسی ایک میں " ایک لفظ " بھی مجھے جھوٹ کہنے کی ضرورت نہیں پڑی۔کوئی بتائے کہ کسی ایک میں بھی خدا تعالیٰ نے مجھے شکست دی ہو۔اللہ تعالیٰ تو آپ سچائی کا حامی اور مددگار ہے۔یہ ہو سکتا ہے کہ وہ راستباز کو سزادے؟ یہ کس طرح سکتا ہے " اگر ایسا ہو تو دنیا میں پھر کوئی شخص سچ بولنے کی جرات نہ کرے اور خدا تعالیٰ پر سے ہی اعتقاد اٹھ جاوے۔راستباز تو زندہ ہی مر جاویں۔" ہو پھر آپ فرماتے ہیں کہ "اصل بات یہ ہے کہ سچ بولنے سے جو سزا پاتے ہیں وہ سچ کی وجہ سے نہیں ہوتی۔" اگر کسی نے سچ بولا اور کسی مقدمہ میں یا کسی وجہ سے اس کو اگر کوئی سزا ملی ہے تو اس وجہ سے نہیں ملی کہ اس نے یہ سچ بولا تھا اور اگر وہ جھوٹ بولتا تو سزا نہ ملتی بلکہ فرمایا " وہ سزا اُن کی بعض اور مخفی در مخفی بدکاریوں کی ہوتی ہے جو دوسرے گناہ کئے ہوتے ہیں، چھپے ہوئے گناہ کئے ہوتے ہیں بعض دفعہ ان کی سزا ہوتی ہے " اور کسی اور جھوٹ کی " سزا ہوتی ہے۔خدا تعالیٰ کے پاس تو ان کی بدیوں اور شرارتوں کا ایک سلسلہ ہوتا ہے۔ان کی بہت سی خطائیں ہوتی ہیں اور کسی نہ کسی میں وہ سزا پالیتے ہیں۔" اس کے بعد بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ کس طرح بعض دفعہ دنیا میں بھی ہم دیکھتے ہیں کہ ایک چھوٹی سی بات ہوتی ہے اس کی سزا بڑی مل رہی ہوتی ہے۔ایک واقعہ بیان فرماتے ہیں کہ "میرے ایک استاد گل علی شاہ بٹالے کے رہنے والے تھے۔وہ شیر سنگھ کے بیٹے پر تاپ سنگھ کو بھی پڑھایا کرتے تھے۔انہوں نے بیان کیا کہ ایک مرتبہ