خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 78 of 830

خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 78

خطبات مسرور جلد 14 78 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 05 فروری 2016 اس عاجز پر مقدمہ دائر کر ادیا۔اور قبل اس کے جو مجھے اس مقدمہ کی کچھ اطلاع ہو رویا میں اللہ تعالیٰ نے میرے پر ظاہر کیا کہ رلیا رام وکیل نے ایک سانپ میرے کاٹنے کے لیے مجھ کو بھیجا ہے اور میں نے اسے مچھلی کی طرح نکل کر واپس بھیج دیا ہے۔میں جانتا ہوں کہ یہ اس بات کی طرف اشارہ تھا کہ آخر وہ مقدمہ جس طرز سے عدالت میں فیصلہ پایاوہ ایک ایسی نظیر ہے جو وکیلوں کے کام آسکتی ہے۔غرض میں اس جرم میں صدر ضلع گورداسپور میں طلب کیا گیا اور جن جن وکلاء سے مقدمہ کے لیے مشورہ لیا گیا انہوں نے یہی مشورہ دیا کہ بجز دروغگوئی کے " جھوٹ بولنے کے " اور کوئی راہ نہیں اور یہ صلاح دی کہ اس طرح اظہار دے دو کہ ہم نے پیکٹ میں خط نہیں ڈالا۔ر لیا رام نے خود ڈال دیا ہو گا۔اور نیز بطور تسلی دہی کے کہا کہ ایسا بیان کرنے سے شہادت پر فیصلہ ہو جائے گا اور دو چار جھوٹے گواہ دے کر بریت ہو جائے گی۔" یعنی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو وکیل مشورہ دے رہے ہیں کہ جھوٹے گواہ پیش کرو۔"اور نہ " وکیلوں نے کہا کہ صورت مقدمہ سخت مشکل ہے اور کوئی طریق رہائی " کا " نہیں " ہے۔" حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں "مگر میں نے ان سب کو جواب دیا کہ میں کسی حالت میں راستی کو چھوڑنا نہیں چاہتا۔جو ہو گا سو ہو گا۔تب اسی دن یا دوسرے دن مجھے ایک انگریز کی عدالت میں پیش کیا گیا۔اور میرے مقابل پر ڈاکخانہ جات کا افسر بحیثیت سرکاری مدعی ہونے کے حاضر ہوا۔اس وقت حاکم عدالت نے اپنے ہاتھ سے میرا اظہار لکھا اور سب سے پہلے مجھ سے یہی سوال کیا کہ کیا یہ خط تم نے اپنے پیکٹ میں رکھ دیا تھا اور یہ خط اور یہ پیکٹ تمہارا ہے ؟ تب میں نے ہلا تو قف جواب دیا کہ یہ میرا ہی خط اور میر اہی پیکٹ ہے اور میں نے اس خط کو پیکٹ کے اندر رکھ کر روانہ کیا تھا مگر میں نے گورنمنٹ کی نقصاں رسانی محصول کے لیے بدنیتی سے یہ کام نہیں کیا " حکومت کو نقصان پہنچانے کے لئے، اس کے پیسے ہضم کرنے کے لئے یہ کام نہیں کیا تھا بلکہ میں نے اس خط کو اس مضمون سے کچھ علیحدہ نہیں سمجھا اور نہ اس میں کوئی نج کی بات تھی۔اس بات کو سنتے ہی خدا تعالیٰ نے اس انگریز کے دل کو میری طرف پھیر دیا اور میرے مقابل پر افسر ڈاکخانہ جات نے بہت شور مچایا اور لمبی لمبی تقریریں انگریزی میں کیں جن کو میں نہیں سمجھتا تھا۔مگر اس قدر میں سمجھتا تھا کہ ہر ایک تقریر کے بعد زبان انگریزی میں وہ حاکم نو نو " No,No" کر کے اس کی سب باتوں کو ر ڈ کر دیتا تھا۔انجام کار جب وہ افسر مدعی اپنی تمام وجوہ پیش کر چکا اور اپنے تمام بخارات نکال چکا تو حاکم نے فیصلہ لکھنے کی طرف توجہ کی اور شاید سطر یا ڈیڑھ سطر لکھ کر مجھ کو کہا کہ اچھا آپ کے لیے رخصت " ہے۔" یہ سن کر میں عدالت کے کمرہ سے باہر ہوا اور اپنے محسن حقیقی کا شکر بجالایا جس نے ایک افسر انگریز کے مقابل پر مجھ کو ہی فتح بخشی اور میں خوب جانتا ہوں کہ اُس وقت صدق کی برکت سے خدا تعالیٰ نے اس بلا سے مجھ کو نجات دی۔میں نے اس سے پہلے یہ خواب بھی دیکھی تھی کہ