خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 77
خطبات مسرور جلد 14 77 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 05 فروری 2016 documents جھوٹے بنالئے جاتے ہیں۔کسی سرکاری افسر کو پیسے دیئے اور جھوٹے بنالئے " کوئی امر بیان کریں گے تو سچ کا پہلو بچا کر بولیں گے۔" یعنی سچ سے دُور ہی رہیں گے اور آجکل تو یہ حالت پہلے سے بھی بڑھ گئی ہے " اب کوئی ان لوگوں سے جو اس سلسلہ کی ضرورت نہیں سمجھتے پوچھے کہ کیا یہی وہ دین تھا جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم لے کر آئے تھے ؟ سلسلے کی ضرورت کے بارے میں آپ نے ان اخلاق کو پیش کیا اور بتایا کہ کیا صرف اتناہی کہہ دینا کہ مسیح آسمان پر نہیں ہے اور زمین میں فوت ہو چکے ہیں اور اب جس نے آنا تھاوہ آگیا ہے کافی ہے ؟ نہیں۔بلکہ یہ اعلیٰ اخلاق ہیں جو قائم کرنے ہوں گے۔اور اسی لئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے مبعوث فرمایا۔فرمایا کہ " اللہ تعالیٰ نے تو جھوٹ کو نجاست کہا تھا کہ اس سے پرہیز کرو۔فَاجْتَنِبُوا الرِّجْسَ مِنَ الْأَوْثَانِ وَاجْتَنِبُوا قَوْلَ النُّورِ (الحج: 31) بُت پرستی کے ساتھ اس جھوٹ کو ملایا ہے۔" فرمایا " جیسا احمق انسان اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر پتھر کی طرف سر جھکاتا ہے ویسے ہی صدق اور راستی کو چھوڑ کر اپنے مطلب کے لیے جھوٹ کو بُت بناتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو بت پرستی کے ساتھ ملایا اور اس سے نسبت دی جیسے ایک بت پرست بت سے نجات چاہتا ہے۔جھوٹ بولنے والا بھی اپنی طرف سے بت بناتا ہے اور سمجھتا ہے کہ اس بت کے ذریعہ نجات ہو جاوے گی۔کیسی خرابی آکر پڑی ہے۔اگر کہا جاوے کہ کیوں بُت پرست ہوتے ہو۔اس نجاست کو چھوڑ دو۔تو کہتے ہیں کیونکر چھوڑ دیں۔اس کے بغیر گزارہ نہیں ہو سکتا۔اس سے بڑھ کر اور کیا بد قسمتی ہو گی کہ جھوٹ پر اپنا مدار سمجھتے ہیں۔مگر میں تمہیں یقین دلاتا ہوں کہ آخر سچ ہی کامیاب ہوتا ہے۔بھلائی اور فتح اسی کی ہے۔" ( ملفوظات جلد 8 صفحہ 349-350) پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اپنا ایک واقعہ بیان فرماتے ہیں۔فرمایا کہ: ستائیس اٹھائیس سال کا عرصہ گزرا ہو گا یا شاید اس سے کچھ زیادہ ہو کہ اس عاجز نے اسلام کی تائید میں آریوں کے مقابل پر ایک عیسائی کے مطبع میں جس کا نام رلی رام تھا اور وکیل بھی تھا اور امر تسر میں رہتا تھا اور اس کا ایک اخبار بھی نکالتا تھا۔ایک مضمون بغرض طبع ہونے کے ایک پیکٹ کی صورت میں جس کی دونوں طرفیں کھلی تھیں بھیجا۔" اب یہ واقعہ ہم میں سے کئی لوگوں نے سنا ہوا ہے۔بیان بھی کرتے ہیں۔لیکن صرف بیان کرتے ہیں۔عمل ہم میں سے بھی بعض نہیں کر رہے ہوتے فرمایا کہ " اور اس پیکٹ میں ایک خط بھی رکھ دیا۔چونکہ خط میں ایسے الفاظ تھے جن میں اسلام کی تائید اور دوسرے مذاہب کے بطلان کی طرف اشارہ تھا اور مضمون کے چھاپ دینے کے لیے تاکید بھی تھی اس لیے وہ عیسائی مخالفت مذہب کی وجہ سے افروختہ ہوا اور اتفاقاً اس کو دشمنانہ حملہ کے لیے یہ موقعہ ملا کہ کسی علیحدہ خط کا پیکٹ میں رکھنا قانونا ایک جرم تھا جس کی اس عاجز کو کچھ بھی اطلاع نہ تھی اور ایسے جرم کی سزا میں قوانین ڈاک کی رو سے پانچ سو روپیہ جرمانہ یا چھ ماہ تک قید ہے۔سو اُس نے مخبر بن کر افسران ڈاک سے