خطبات محمود (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 6 of 580

خطبات محمود (جلد 6) — Page 6

روپوں پر اپنے بیٹے کو ذبح کرائیگا۔ اس کا کیا نتیجہ ہوگا۔ ہیں کہ اگر مخاطب متحمل مزاج اور اپنے جوش کے دہانے پر قادر نہیں۔ تو اس فقرہ کے پورا ہونے سے قبل ہی اس کا ہاتھ کہنے والے کی گردن میں ہوگا اور جس طرح پانی سے بھری ہوئی مشک کا بند گھل جاتا ہے اور زور سے پانی نکلنا شروع ہو جاتا ہے۔ اس طرح اس منہ کا بند گل جائیگا اور ہزاروں قسم کی گالیاں دینی شروع کردے گا اور اگر کوئی سمجھدار اور دانا ہو گا تو اس فقرہ کو نہایت نا پسندیدگی اور ناراضگی کی نظر سے دیکھے گا۔ یا اگر بے اختیار ہو کر کہنے والے پر حملہ آور نہیں ہو گا۔ تو اسے یہ ضرور کہے گا کہ کیسی نادانی اور جہالت کی بات کرتے ہو۔ یا اگر اتنا بھی نہ کرے گا۔ تو دل میں ضرور غصہ سے بھر جائیگا ۔ یا کہنے والے کو پاگل اور مجنون سمجھے گا۔ پس اس وقت جھگڑا اس بات پر نہیں ہو گا کہ اس کے بیٹے کی قیمت لاکھ روپے ہے یا کروڑ روپیہ بلکہ یہ بات سن کر اس کے ذہن میں ہی نہیں آسکے گا کہ میرے بیٹے کی کچھ قیمت ڈالی جاسکتی ہے۔ اور وہ ناراضگی اور غصہ سے بھر جائیگا کہ کیوں ایسا کیا گیا ہے تو کئی چیزیں ایسی ہوتی ہیں کہ ان کی قیمت ڈالنے میں اختلاف نہیں ہوتا۔ بلکہ ان کی قیمت ڈالنا ہی ایسا خطر ناک ہوتا ہے کہ اسے برداشت نہیں کیا جا سکتا۔ پھر ایمان جو ہزاروں لاکھوں روپوں سے زیادہ قیمتی، ہزاروں جانوں سارے عزیزوں اور رشتہ داروں سے زیادہ عزیز چیز ہے۔ اس کی قیمت ڈالنے جانی کا کس طرح خیال آسکتا ہے ۔ جب ایک بچہ کی قیمت نہیں پڑسکتی تو ایمان کی کہاں پڑ سکتی ہے جو اس سے کروڑوں کروڑ نہیں اربوں ارب گنا زیادہ قیمتی اور عزیز شے ہے۔ ایک ایماندار انسان کے سامنے اگر ساری دنیا بھی ذبح کر دی جائے۔ جو اسے اپنے ماں باپ بہنوں بھائیوں اور بیٹوں کی طرح پیاری اور عزیز ہو تو وہ ایک منٹ کے منٹ کے لیے بھی اس کے لیے تیار نہیں ہو گا کہ اپنا ں ہو گا کہ اپنا ایمان دیگر اسے بچالے کیونکہ یہ ایک ایسی قیمتی چیز ہے کہ جس کی کوئی قیمت پڑ ہی نہیں سکتی مگر با وجود اس کے ایسی قیمتی اور لاثانی چیز ہونے کے دنیا میں ایسے لوگ پاتے ہی جاتے ہیں جو اس بے بہا گوہر کی قیمت مقرر کرتے اور اس لاثانی موتی کو بیچنا چاہتے ہیں۔ ایسے لوگوں کی نسبت سواتے اس کے اور کیا کہا جا سکتا ہے کہ وہ جانتے ہی نہیں کہ ایمان کیا چیز ہے اور کتنی قیمتی شے ہے ۔ دیکھو اگر کسی کو کوئی کہے کہ میں تیرے بیٹے کو ذبح کرنا چاہتا ہوں ۔ بنا اس کی کیا قیمت لے گا اور وہ دس روپے مانگے۔ تو سننے والے فوراً کہدیں گے کہ اگر یہ شخص پاگل نہیں تو یہ اس کا بیٹا ہی نہیں جس کی اس نے یہ قیمت مقرر کی ہے۔ بلکہ کسی اور کا ہے۔ اور یہ دھوکہ سے اپنا بیٹا کہہ رہا ہے۔ اسی طرح جو شخص اپنے ایمان کی کوئی قیمت مقرر کرتا ہے۔ اس کے متعلق یقیناً کہیں