خطبات محمود (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 7 of 580

خطبات محمود (جلد 6) — Page 7

6 کہا جائیگا۔ کہ اس میں ایمان ہے ہی نہیں۔ اور وہ دھوکہ دینا چاہتا ہے کہ میرے پاس ایمان ہے اور اس طرح جو کچھ اسے ملے اسے مفت سمجھ کر لے لینا چاہتا ہے۔ کیونکہ اس کے اندر ایمان تو ہے ہی نہیں اور اس کے خریدنے والا بھی سمجھتا ہے کہ اگر اس کی چیز ناقص ہے۔ تو میں جو کچھ دینے لگا ہوں ۔ وہ اس سے بھی زیادہ ناقص ہے ۔ یہ اپنی آخرت کو برباد کر رہا ہے۔ میرا اگر دنیا کا کچھ نقصان ہو گیا تو کیا ہوار اس خیال سے دونوں میں سودا ہو جاتا ہے اور ان کی مثال اس واقعہ میں ایسی ہوتی ہے جو یوں میں ولوں مشہور ہے کہ ایک قافلہ کہیں جارہا تھا۔ اس میں سے ایک شخص بازار گیا۔ اور جاکر بزاز سے ایک کپڑے کا تھان یا نگا۔ بزاز نے ایک ایسا تھان جو اندر سے پھٹا ہوا اور اوپر ثابت نہیں تھیں۔ تھوڑی سی قیمت پر اس کے سامنے پیش کیا ۔ تاکہ جلدی جلدی سے خریدے اور اسے کھول کر نہ دیکھے۔ چنانچہ اس نے فوراً خرید لیا اور قیمت دیگر چلا گیا۔ بزاز نے جلدی سے روپے لے کر رکھ لیے۔ جب وہ چلا گیا تو بزاز کو اس کے نفس نے ملامت کی اور وہ خرید نے والے کے پیچھے چلا ۔ تا کہ تھان واپس لے آتے اور اس کے روپے اسے واپس کر دے ۔ جب جاکر اسے ملا ۔ تو کہا یہ تھان میں نے تم کو دھوکہ سے کو دھوکہ سے دیدیا تھا۔ دراصل یہ اندر سے پھٹا ہوا ہے۔ یہ مجھے تھا ۔ وہ واپس کر دو۔ لو! کر دو۔ اور اپنی قیمت لے لو۔ اس نے کہا اس بات کا کوئی فکر نہ کروئیں نے جو تمہیں دام دیتے تھے۔ بھی کھوٹے ہی تھے ۔ یہی حال ایمان بیچنے اور خریدنے والوں کا ہوتا ہے بیچنے والا ایک چیز دینے کا اقرار کرتا ہے حالانکہ اسکے پاس ہوتی ہی نہیں یا ناقص ہوتی ہے بنگر باوجود اس قسم کے سودے کر کے یہ لوگ کہتےہیں کہ ایماندار ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے قَالَتِ الأَعْرَابُ آمَنَّا قُلْ لَمْ تُؤْمِنُوا وَالكِنْ قُولُوا اسْلَمْنَا وَلَمَّا يَدْخُلَ الإِيمَانُ فِي قُلُوبِكُم ۔ کہ بدوی لوگوں میں سے ایک جماعت ایسی ہے۔ جو کہتی ہے ہم ایمان لے آتے۔ ان کو کہد وہ تم مست یہ کہو کہ ہم ایمان لے آتے ہیں ہم تو کبھی ایمان لاتے ہی نہیں۔ تمہاری ایسی ماری ایسی قسمت کہاں ہاں یہ کہو کہ ہم مسلمان کہلانے لگے یں گتے ہیں کیونکہ ایمان تو تمہارے اندر داخل نہیں ہوا۔ اور جب ایمان داخل ہی نہیں ہوا تو پھر تمہارا کوئی حق نہیں ہے کہ اپنے آپ کو ایماندار کہو۔ ایمان کے آثار تو تم میں پیدا ہی نہیں ہوئے ۔ دیکھو ہر چھوٹے سے چھوٹے کام کا کچھ نہ کچھ نتیجہ نکلتا ہے۔ ایک عالم ہوتا ہے۔ گو علیم اس کے دماغ میں ہوتا ہے مگر پتہ لگ جاتا ہے کہ یہ عالم ہے۔ اسی طرح گو ایمان قلب سے تعلق رکھنے والی چیز ہے جسے اللہ ہی جانتا ہے ، لیکن انسان بھی اس کے اثرات اور اظلال سے پتہ لگا لیتا ہے کہ ہے یا نہیں۔ اور نتا اہ ایمان تو خود نخود ظاہر ہو جاتا ہے اس کے متعلق کسی کے بتانے کی ضرورت ہی نہیں ہوتی۔ تو فرمایا