خطبات محمود (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 554 of 580

خطبات محمود (جلد 6) — Page 554

۵۵ (102) کامیابی خدا پر توکل رکھنے والوں کیلئے ہے فرموده ۲۶ نومبر ۱۹۲۳ تشتد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد آیت اِذْ يَقُولُ الْمُنَافِقُونَ وَالَّذِينَ فِي قُلُوبِهِم مَرَضٌ غَرَهُؤُلاءِ دِينُهُمْ ، وَمَنْ يَتَوَكَّلْ عَلَى اللهِ فَإِنَّ اللهَ عَزِيزَها اللهِ فَإِنَّ اللهَ عَزِيزٌ حَكِيمٌ - (الانفال (٥٠) پڑھ کر حضور نے فرمایا :- فرمایا :- انسان کی عادت ہے کہ جب کبھی وہ کسی نیکی کے اختیار کرنے سے باز رہتا اور کسی مفید بات کو رد کرتا ہے۔ تو اس کی ضمیر اس کو ملامت کرتی ہے اور وہ ملامت باقی تمام تکالیف سے بڑھکر ہوتی ہے۔ انسان سب کچھ برداشت کر سکتا ہے، مگر نفس کی علامت کو برداشت نہیں کر سکتا۔ جب نفس علامت شروع کرتا ہے تو انسان عذرات تلاش کرتا ہے۔ وہ عذرات لوگوں کے لیے نہیں ہوتے ۔ نہان عذرات سے لوگوں کو خاموش کرنا چاہتا ہے۔ نہ خوش کرنا چاہتا ہے ۔ بلکہ وہ محض اپنے نفس کو خوش کرنے کے لیے ہوتے ہیں ، دوسروں کے لیے بھی ہوتے ہیں۔ کیونکہ انسان بالطبع چاہتا ہے کہ لوگ اس کی مذمت نہ کریں ۔ بلکہ تعریف کریں مگر بہت بڑی زد جو خود انسان کے اپنے نفس کی ہوتی ہے اس سے بچنے کے لیے عذرات گھڑتا ہے اور جان بچانا چاہتا ہے ۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اسی قسم کے واقعہ کا ذکر فرمایا ہے ۔ فرماتا ہے۔ اذ يقول المنافقون والذين في قلوبهم مرض غر هؤلاء دينهم ۔ اسلام قبول کرنا معمولی بات نہ تھی ۔ بلکہ ایک سایہ میر پر اُٹھانا تھا۔ اس وقت ساری دنیا کے عناد اور تمام مذاہب کی عداوت اسلام کے خلاف عداوت اسلام کے خلاف بھڑکی ہوتی تھی تا کہ اسلام کو مٹا دیں اور وہ ایسا کرنے پر مجبور تھے۔ کیونکہ وہ دیکھتے تھے کہ اسلام کے باقی رہنے میں ان کی ہلاکت ہے اس وقت بیودیت عیسائیت سے نہ ڈرتی تھی۔ زرتشتی مذہب سیو دیت اور عیسائیت سے نہ ڈرتا تھا۔ ان کے ڈرنے کے لیے صرف ایک اسلام ہی تھا اور اسی کے خلاف وہ سب کوتا سب شش کرتے تھے کبھی یہ نہ دیکھو گے کہ بکری بھیڑ سے ڈرے حتی کہ بیل گائے سے بھی ہیں ڈر گی۔ اتنا ہوگا کہ