خطبات محمود (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 555 of 580

خطبات محمود (جلد 6) — Page 555

۵۵۵ اگر کوئی مارنے والا بیل ہوگا۔ تو اس سے ذرا پیچھے ہٹ جائے گی۔ مگر جب شیر آئے گا تو بری ! اور تمام وہ جانور جو اس کی غذا ہیں۔ بھاگ جائیں گے یہی حالت اسلام اور دیگر مذاہب کی تھی۔ جب اسلام آیا تو دیگر مذاہب نے محسوس کیا کہ ہم اس کے سامنے زندہ نہیں رہ سکتے یا اس کو مٹا دینگے یا خود مٹ جائیں گے۔ سکتا ۔ اب صداقت جب صادقوں کے ہاتھ میں ہو تو مٹ نہیں سکتی محمد صلی اللہ علیہ وسلم جو تعلیم لائے ۔ وہ بھی موجود ہے مگر رسول کریم صل اللہ علیہ وسلم فوت ہو گئے کیونکہ انسان کے لیے موت ہے پس جب لوگ تے اسلام کو قبول کرتے تھے۔ تو تمام لوگ ان کے دشمن ہو جاتے تھے وہ دیکھتے تھے کہ مسائل کا تو مقابلہ نہیں لوگ ہو سکتا۔ توحید کے مقابلہ میں شرک کہاں ٹھر سکتا ہے ۔ اخلاق و تمدن کے مسائل میں اسلام کا کہاں مقابلہ کیا جا تا ہے۔ اس لیے اسلام کو مٹانے کے لیے ان کے پاس ایک ہی چیز تھی کہ مسلمان کہلانے والے کو مٹا دیں۔ کیونکہ صداقت اپنی ذات میں ایک قائم نہیں رہا کرتی ۔ بلکہ صادقوں کے ساتھ ہوتی ہے۔ تک قائم رہتی ہے۔ خالی تلوار کچھ نہیں کر سکتی جب تک کہ اچھے سوار کے ہاتھ میں نہ ہو۔ اسی طرح صداقت کا مٹانا ہی تھا کہ صادقوں کو مٹا دیا جاتے اس لیے انہوں نے اپنی تمام طاقتوں کو جمع کیا اور اسلام کے مٹانے کے درپے ہو گئے۔ اس وقت اسلام کی مثال اس پودا کی سی تھی۔ جو ابھی بہت ابتدائی حالت میں ہوا اور تنومند جانور اس کو گرانے کے درپے ہوں۔ ایسے وقت میں اسلم میں شام ہونا کو معمول بہت دیتی ہو ہما کے ان کی ھے دشمن تھے ۔ اس لیے جو شخص بھی مسلمان ہوتا تھا۔ قبل اس کے کہ وہ اپنی حالت کو اسلام کے سانچے میں ڈھال لیتا۔ اس کا محض مسلمان کہلانا ہی تمام عداوتوں کو اپنے گرد و پیش جمع کر لیتا تھا۔ اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ جو اسلام کی شب و روز خدمت میں رہتے تھے ان بے لوگ کس قدر علاوت کرتے ہونگے۔ پس اس وقت اسلام قبول کرنا تلوار کے پیچھے اپنی گردن کو دھر دیا تھا یہی وجہ تھی ۔ وہ نادان جن کو خدا کی قدرتوں اور طاقتوں پر یقین نہ تھا۔ ایسی حالت میں ان لوگوں کے لیے جو اسلام کی کی خدمت میں شب و روز مصروف تھے کہتے تھے کہ کیا یہ لوگ پاگل ہو گئے۔ ساری دنیا کو مفت میں اپنا دشمن بنا لیادہ ساری کو مفت میں لوگ جو چوہے کی حرکت سے بھی ڈر جاتے ہیں۔ ڈرتے تھے کہ یہ لوگ کیوں دیوانے ہو گئے ہیں۔ ان کے متعلق خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ منافق اور کمزور دل مسلمان کہلانے والے لوگ کہتے ہیں کہ یہ لوگ مذہبی دیوانے ہیں کہ ہر ایک مذہب اور ہر ایک قوم سے انھوں نے جنگ چھیڑ رکھی ہے ۔ اور اس اور ہرایا۔ کمزوری پر دعوی یہ ہے کہ سب کو مٹا دینگے۔ اور اسلام کو قائم کر دینگے ان کے پاس کوئی ظاہری سمنان نہیں ۔ علوم میں یہ درماندہ ہیں۔ ان لوگوں کی عقل ماری گئی ہے کہ اپنے نقصان سے بے خبر ہیں۔