خطبات محمود (جلد 6) — Page 519
νιστώ ۵۱۹ 97 ایمان و اسلام کی حقیقت ابتلاء کیا هے د فرموده ۲۲ اکتوبر ۱۹ ) حضور نے تشہد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا :- میں اس جمعہ اس مضمون کے متعلق ناغہ کرتا ہوں جوئیں مسلسل بیان کر رہا ہوں کیونکہ اور نہایت ضروری مضمون پیش آگیا ہے جس کی طرف جماعت کی توجہ پھیرتا ہوں ۔ یہ مضمون تو اس قابل ہے کہ اس کو وسعت سے بیان کیا جائے ۔ مگر دیر ہو جانے اور حلق میں تکلیف ہونے کے باعث زیادہ نہ بول سکوں گا۔ مگر میں امید رکھتا ہوں کہ جسقدر بھی اس وقت بیان ہو گا ۔ آپ لوگ اس کو سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی کوشش کرینگے ۔ میں دیکھتا ہوں کہ بالعموم لوگ الفاظ پر کفایت کر لیتے ہیں اور معنے جو لفظوں کے نیچے ہوتے ہیں ان میں جانے کی کم کوشش کرتے ہیں۔ بیسیوں لفظ ہیں جو لوگ سنتے ہیں۔ بولتے ہیں لکھتے ہیں، مگر ان کی حقیقت کی طرف کم توجہ کرتے ہیں۔ بلکہ جتنا کسی لفظ کو زیادہ بولتے ہیں۔ اتنا ہی اس کی حقیقت پر کم توجہ کرتے ہیں اور اس سے کم واقف ہوتے ہیں۔ انہی الفاظ میں سے ایمان اور اسلام کے الفاظ بھی ہیں۔ جن کے معنوں سے کم لوگ قاف ہیں۔ اور اس کی وجہ یہ ہے کہ بچپن سے سنتے سنتے اس قدر یہ الفاظ عام ہو گئے کہ ان کے معنوں کی طرف کبھی توجہ پیدا ہی نہیں ہوتی جس طرح ایک شخص ایسے جنگل سے آتے ۔ جہاں اس نے کبھی اسلام و ایمان کے الفاظ نہ تنے ہوں۔ وہ جب سنے گا۔ تو اس کے لیے یہ لفظ ایسے لیے اثر نہ ہونگے جیسے اُس شخص کے لیے ہیں، جو بچپن سے ان کو سنتا رہا ہے جنگل سے آنے والے شخص کی عجیب کیفیت ہوگی سے اگر ہم اس کو کہیں گے کہ تم ایمان لے آؤ اور مسلمان ہو جاؤ۔ تو وہ ہم سے پوچھے گا کہ ایمان کیا ہے۔ وہ ہم سے کیا جو سے که