خطبات محمود (جلد 6) — Page 520
۵۲۰ اسلام سے کیا مطلب ہے ہے ہم کیوں ایمان ایمان لائیں ۔ اسلام کیوں قبول کریں۔ جب اُس کی حقیقت اس پر پر کا گھل جائیگی ایکی تب وہ اس کو بن جو بچہ مسلمان کے گھر پیدا ہوا اور ہمیشہ سنتا رہا کہ ہم مسلمان ہیں ۔ اس کو کبھی ضرورت ہی معلوم نہیں ہوتی کہ مسلمان ہونا ہے کیا چیز ۔ لیکن ایمان اپنے اندر ایک بڑی حقیقت رکھتا ہے ۔ اور وہ حقیقت نہیں کھل سکتی جب تک ایک شخص اس کے اندر داخل نہ ہو۔ ایمان یہ ہے کہ انسان کے اندر وہ صداقت جو خدا کی طرف سے ہو۔ بیٹھ جاتے اور وہ اس کے اندر سے کبھی نکل نہ سکے ۔ لیکن ضد سے اور ہٹ سے نہیں، بلکہ یقین کے ساتھ اس میں سے نہ نکل سکے۔ بہت لوگ ہوتے ہیں۔ جو ضد کی وجہ سے کوئی بات مانتے ہیں۔ مثلاً کوئی بچہ چوری کرتا ہے یا جھوٹ بولتا ہے یا گالی دیتا ہے۔ ماں باپ مارتے ہیں اور کہتے ہیں پھر تو نہیں ایسا کریگا ۔ وہ کہتا ہے کروں گا۔ پھر مارتے ہیں اور پوچھتے ہیں۔ اب تو نہیں گالی دیگا ۔ وہ کہتا ہے دوں گا۔ تو یہ ضد ہے ۔ جو مار سے بڑھتی چلی جاتی ہے۔ اس کا یہ اصرار یقین کی بناء پر نہیں ہوتا ، لیکن ایمان کے معنے یہ ہیں کہ صداقت کو یقین کی بناء پر انسان نہ چھوڑے اور وہ جس بات پر اپنے ایمان کی رو سے قائم ہے۔ اس کے اپنے پاس دلائل بھی ہوں اور ان دلائل کی وجہ سے ترک نہ کرے ۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ سلم فرماتے ہیں جس شخص کے دل میں بشاشت ایمان داخل ہو جائے ۔ اس کو اگر اگ میں بھی ڈالدیا جائے تو وہ مرتد نہیں ہو سکتا ہے غور کرو کہ جب بشاشت ایمان کا یہ حال ہے تو علی ایمان کا کیا حال ہو گا ۔ بشاشت ایمان کا یہ مطلب ہے کہ ایمان سے لگاؤ اور مناسبت پیدا ہو جائے۔ جو لوگ ایمان کے اعلیٰ ترین مقام پر ہوتے ہیں۔ وہ بھی یہ نہیں کہیں گے کہ ہم اس لیے آزمات لیے آزمائش اور ابتلاء میں ڈالے گئے ہیں۔ تاکہ ہمارے ایمان کا پتہ لگایا جائے ۔ وہ تو اس قدر بلند درجہ پر ہوتے ہیں کہ انکی اس طرح آزمائیش ہورہی نہیں سکتی ۔ ہاں جو لوگ بشاشت ایمان جو ایمان کا ادنی درجہ ہے رکھتے ہیں۔ ان کی یہ حالت ہوتی ہے کہ اگر ان کو زندہ آگ میں ڈالا جائے ۔ تو وہ ایمان سے برگشتہ نہیں ہو سکتے ۔ ادنی ایمان کا تجربہ آگ میں ڈالنے سے ہوگا تو اعلیٰ ایمان کا درجہ تو بہت بلند ہوتا ہے۔ مومن ہے۔ پر جو ابتلاء آتے ہیں ان کی ان کی غرض یہ ہوتی ہے کہ لوگوں کو پتہ لگے کہ وہ ایمان میں کیسا مضبوط ہے ۔ خدا کی طرف سے جو ابتلاء آتے ہیں۔ وہ دو قسم کے ہوتے ہیں۔ اول یہ کہ خود اس شخص کو بتایا جب له بخاری کتاب الایمان باب علاوة الایمان