خطبات محمود (جلد 6) — Page 331
۳۳۱ پس یہ نہایت اہم سوال ہے بعض لوگ چھوٹی چھوٹی باتوں پر ان لوگوں کو جنہوں نے سلسلہ کی خدمات میں عمریں مرے کر دی ہیں۔ بڑے الفاظ کہ دیتے ہیں۔ اور اپنی تائید میں یہ کہتے ہیں۔ مولوی محمد علی بھی مخلص کہلاتا تھا مگر مرتد ہو گیا۔ خواجہ بھی مخلص بنتا تھا۔ مگر مرید ہو گیا ۔ اس لیے فلاں بھی ایسا ہی ہے ۔ ایسے لوگوں کو یاد رکھنا چاہتے۔ یہ سخت غلطی اور نادانی ہے۔ خواہ مخواہ کسی کے متعلق اس قسم کی رائے نہیں قائم کر لینی چاہیئے ۔ ایک دفعہ حضرت ابو بکر اور حضرت عمر کی لڑائی ہوتی۔ اس معاملہ میں زیادتی حضرت عمر کی تھی۔ حضرت ابو بکر چونکہ خیر خواہی میں بڑھے ہوتے تھے۔ جھوٹ حضرت عمر سے معافی کی درخواست کی حضرت عمر ہو کر چونکہ خیر میں تھے عمر معافی کی حضرت عمر چونکہ اس وقت طیش میں تھے۔ اس لیے باوجود زیادتی پر ہونے کے کہہ دیا کہ جاؤ میں نہیں صلح کرتا۔ اور حضرت ابو بکر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے ۔ اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ عمر مجھ سے خفا ہیں آپ میری غلطی ان سے معاف کرا دیں ۔ ادھر حضرت عمر کو بھی خیال ہوا۔ اور سمجھے کہ زیادتی تو میری ہے یہ بھی رسول کریم کے پاس گئے ۔ اور جا کر کہا یا رسول اللہ ابو بکر سے مجھے معافی دلوا دیں ۔ اس وقت رسول کریم صلی اللہ علیہ سلم کا چہرہ عنہ سے سرخ تھا۔ صحابہ کہتے ہیں۔ اس سے قبل کبھی آپ استقدر غصہ میں نہیں آتے تھے۔ آپ نے اس حالت میں فرمایا کہ تم لوگ کیوں نہیں مجھے اور اس شخص کو چھوڑ دیتے جس نے میرا اس وقت ساتھ دیا جبکہ تمام دنیا میرے کچلنے کے درپے تھی لیے پس اس طرح نبی کریم نے ابو بکر صدیق کی فضیلت کو تسلیم کیا۔ کیونکہ جب دنیا آپ کو کا فرکتی ۔ ابو بکر آپ کی نبوت پر ایمان لایا۔ اور جب لوگ آپ کو حکمت ٹھراتے تھے ۔ ابو بکر نے آپ کو شناخت کر لیا کہ آپ ایک روشن سورج ہیں۔ بعد میں آنے والوں کا حق تھا کہ وہ ابو بکری کا ادب کرتے ، لیکن ابو بکر نے کبھی یہ نہیں کہا کہ میں پہلے ایمان لایا ہوں ۔ میرا ادب کروپس جس طرح بعد والوں کا فرض ہے ۔ کہ اولین کا ادب کریں ۔ اسی طرح اولین کا بھی فرض ہے کہ وہ خدا کے اس فضل کا شکریہ ادا کریں۔ اور اس پر کی قسم کا تکبر اور عجب نہ کریں کیونکہ اگر خدا فضل نہ کرتا۔ تو شاید یہ لوگ مَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ میں شامل ہو جاتے۔ عم میں اپنی جماعت کو نصیحت کرتا ہوں کہ وہ ان لوگوں کا ادب و احترام کرے جن کو مسیح موعود کی ان سے پہلے خدمت کرنے کا موقع ملا ہے۔ اور اسی طرح ان لوگوں کو جو پہلے خدام مسیح موعود ہیں بعد میں آنے والوں کے ساتھ تواضع اور خلق سے پیش آنا چاہیتے۔ اور ہر ایک شخص کو اس درجہ پر سمجھنا بخاری کتاب فضائل اصحاب النبي باب مناقب المهاجرين