خطبات محمود (جلد 6) — Page 330
٣٣٠ ظاہر امام کی ضرورت نہیں پیس یہ لوگ صحابہ کی بدگوئی کر کے ہمیشہ کے لیے حق سے محروم ہو گئے ۔ اور ان سے ایمان سلب کر لیا گیا ۔ چونکہ ہماری جماعت میں سے بعض لوگ مرتد ہو گئے ہیں اور ان کو وہی کہا جاتا ہے جس کے وہ تحقی ہیں۔ اس لیے بعض لوگوں میں یہ خیال پیدا ہو گیا ہے کہ سب کے لیے اس قسم کے الفاظ کہے جاسکتے ہیں دیکھو نبی کریم جب مدینہ میں تشریف لے گئے تو اول ایمان لانے والوں میں عبداللہ بن ابی ابن سلول بھی تھا۔ مگر با وجود اول ایمان لانے کے منافق تھا۔ پھر مکہ سے ہجرت کرنے والوں میں سے بعض لوگ مرتد ہو گئے۔ اب اگر کوئی شخص یہ خیال کر لیا کہ ممکن ہے ابو بکر بھی مرتد ہو جاتے ۔ اور چونکہ عبد اللہ ابن ابی منافق ہے۔ اس لیے عبادہ ابن صامت اور ابو ایوب انصاری بھی کیوں منافق نہ ہوں اور انصاری بھی تو یہ سخت نادانی اور غلطی تھی کیونکہ اگر اس دروازہ کو وسیع کیا جائے تو کچھ بھی باقی نہیں رہتا ۔ قرآن شریف میں حکم ہے کہ صلحا کی محبت اختیار کرو، لیکن دوسری طرف ہم دیکھتے ہیں کہ قرآن شریف میں ہی ایک ولی کا اس طرح ذکر ہے کہ اَخْلَدَ إِلى الأَرْضِ زمین کی طرف جھک گیا۔ (الاعراف (۱۸۷) اب کوئی شخص جس کو کہا جاتے کہ صلحا کی صحبت اختیار کرو۔ کہدے کہ جی ولیوں میں تو بلعم جیسے بھی کہتے ہیں ۔ ہم کس طرح صحبت اختیار کریں تو ایسے آدمیوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ جب کوئی بلعم بن جاتے اور مرتد ہو جاتے۔ اس وقت تم اس سے علیحدگی اختیار کر لو۔ نہ یہ کہ محض اس خیال پر کہ لوگ مرید بھی ہو جاتے ہیں۔ سب سے بدظن ہو جاؤ ۔ اگر کوئی شخص مرید ہو جاتا ہے۔ یا حضرت اقدس علیہ السلام کے درجہ کو گھٹاتا ہے تو تم اس کو نفرت کی نظر سے دیکھو، لیکن یہ غلطی ہے کہ بعض لوگ خفیف باتوں پر فتویٰ دینے لگ جاتے ہیں کہ فلاں بڑا شر پر ہے۔ فلاں ایسا ہے ویسا ہے۔ حضرت مسیح موعود کو ابتداء میں قبول کرنے والے وہ لوگ ہیں جنہوں نے حضرت اقدس کو اس وقت قبول کیا ۔ جس وقت کہ لوگ آپ کو کافر اور دجال کہتے تھے ۔ یا اس طرح کہنے والوں کے ساتھ شامل تھے۔ ان کے متعلق احتیاط سے کام لینا چاہیئے ۔ ہیں جن لوگوں نے ایسے وقت میں حضرت اقدس کو قبول کیا۔ اور حضور کی صحبت میں رہے۔ وہ بعد میں آنے والوں کے لیے اُستاذ اور نمونے کے طور پر ہیں۔ اگر لوگ ان کی اتباع کرینگے ۔ تو یہ خدا کا حکم ہے اور اگر ان کی حقارت کرینگے ۔ تو تقویٰ کے درجات میں ترقی نہیں کر سکیں گے۔ خدا تعالیٰ کے قرب کے لیے نہایت ضروری ہے کہ حفظ مراتب کا خیال رکھا جاتے حضرت اقدس اکثر فرمایا کرتے تھے کہ پر گر حفظ مراتب نه کنی زندیقی له بلعم باعور