خطبات محمود (جلد 6) — Page 269
۲۶۹ 50 دینی کاموں میں دوام کی ضرورت فرموده ۱۸ جولائی شاه ) حضور انور نے تشہد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا :- انسان اپنے آرام اور اپنی راحت کے لیے بہت کچھ کوشش کرتا ہے۔ اور بڑی بڑی مشکلوں اور سختیوں سے گذرتا ہے۔ ایسے شخص کو کوئی نہیں کہہ سکتا کہ نادان ہے۔ کیونکہ آرام حاصل کرنے کے لیے تکلیف اُٹھاتا اور مشکلات برداشت کرتا ہے۔ تکلیف اور آرام تو ایک دوسرے کی خند ہیں ۔ آرام تکلیف نہیں بن سکتا۔ اور تکلیف آرام نہیں ہوسکتی لیکن پھر بھی کوئی نہیں کہ سکتا کہ فلاں آدمی کیسیا نادان ہے ۔ کہتا ہے آرام حاصل کرنے کے لیے تکلیف اُٹھا رہا ہوں ۔ مثلاً علم حاصل کرنے والا راتوں کو جاگتا ۔ اور اپنا آرام قربان کر کے علم پڑھتا ہے۔ اس سے اگر پوچھو کہ تو کیوں تکلیف اٹھاتا ہے تو وہ کہے گا ۔ آرام حاصل کرنے کے لیے ۔ اس موقع پر ان لوگوں کو جانے دو۔ جو علم علم کے لیے حاصل کرتے ہیں کیونکہ ایسے لوگ بہت کم ہوتے ہیں۔ آجکل اکثر وہی ہوتے ہیں جو آرام اور دولت حاصل کرنے کے لیے علم پڑھتے ہیں۔ تو ایک ایسا شخص جو عزت - دوکت - وسعت اور آرام کے لیے پڑھنے کی تکلیف برداشت کرتا ہے ۔ اسے کوئی یہ نہیں کہ سکتا کہ تم سکھ حاصل کرنے کے لیے دُکھ میں کیوں پڑتے ہو۔ وہ آئیندہ ملنے والے سکھ کے لیے فوری دُکھ میں پڑتا ہے۔ کیوں ؟ اس لیے کہ یہ دکھ عارضی ہے ۔ اور وہ سکھ اس کی ساری زندگی تک چلا جائیگا جس طرح دنیا وی سکھ حاصل کرنے کے لیے انسان کو تکالیف میں پڑنا پڑتا ہے ۔ اس طرح دین کے معاملہ میں بھی بہت سی تکالیف سے گذرنا پڑتا ہے اور میرے خیال میں تو ایک رنگ میں جہنم ۔ رنگ میں جہنم سے گزرنا پڑتا ہے۔ دینداروں کے لیے تو پہلے ہی قرآن نے یہ فتویٰ دیدیا ہوا ہے کہ دنیا میں ان کے ایمانوں کی آزمائش کی جائے گی ۔ اور ان کے اقوال کو جانچا جا ئیگا۔ اور انکے دعووں کو اس طرح پر کھا جائیگا جس طرح لوہے کو آگ میں ڈال کر پر کھا جاتا ہے۔ اس لیے یہ نہیں کہا جا سکتا کہ ادھر کوئی ایمان لائے اور ادھر اسے آرام و آسائیش حاصل ہو جاتے ادھر اسلام قبول کرے۔