خطبات محمود (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 270 of 580

خطبات محمود (جلد 6) — Page 270

۲۷۰ اور ادھر اسے دنیا کی آسائش حاصل ہو جاتے ۔ اس میں شک نہیں کہ اگر کوئی سچے دل سے ایمان لاتے۔ تو اسے قلبی راحت اور سکھ مل جاتا ہے، مگر دنیاوی نہیں ملتا۔ چنانچہ قرآن کریم کہتا ہے : أَحَسِبَ النَّاسُ أَنْ يُتْرَكُوا أَن يَقُولُوا آمَنَّا وَهُمْ لَا يُفْتَنُون (العنکبوت (۳) کیا لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ صرف اتنا کہ دینے سے انھیں چھوڑ دیا جائیگا کہ ہم ایمان لاتے۔ حالانکہ ان کی آزمائش نہیں کی جائیگی۔ ان میں سے گھرے اور کھوٹے کو علیحدہ نہیں کیا جائیگا۔ مضبوط اور کمزور کو جدا نہیں کیا جائے گا۔ یہ نہیں ہو سکتا اس طرح نہ کبھی پہلے ہوا ہے اور نہ اب ہوگا۔ یہ تو قران کریم کا فتوئی ہے۔ پھر ہم عملاً دیکھتے ہیں کہ جن لوگوں نے سچا دین قبول کیا۔ ان کے لیے فوراً ہی آرام اورسکھ کا رات نہیں کھولاگیا بلکہ پہلے ہی تو ہی ہوا کہ جوکچھ ان کے پاس تھا۔ وہ بھی انہیں دینا پڑا ۔ اگر کچے گھروں والے تھے ۔ تو دین قبول کرنے کے بعد بجائے اس کے کہ ان کے محل بن جاتے ۔ وہ گھر بھی انہیں چھوڑنے پڑے۔ اگر قوموں میں معزز تھے۔ تو دین قبول کرنے کے بعد بجاتے اس کے کہ بادشاہ اور حکمران بن جاتے انہیں پہلی عزتیں بھی چھوڑنی پڑیں اور ذلیل سمجھے گئے ۔ اگر مالدار تھے۔ تو دین قبول کرنے کے بعد بجائے اس کے کہ ان کا مال ہو گیا چوگنا ۔ بیس گنا اور ہزار گنا ہو جاتا۔ اس کو بھی ترک کرنا پڑا ۔ اگر لوگوں سے تعلقات تھے۔ تو دین قبول کرنے کے بعد بجاتے اس کے کہ ان کے تعلقات وسیع ہو جاتے۔ وہ بھی کٹ گئے۔ غرض جو راحت آرام - عزت - دولت طاقت اور رسوخ انہیں حاصل تھا۔ وہ بھی جاتا رہا اور بجائے فوراً سکھ ملنے کے بظاہر انہیں دکھ ملا۔ یہی حال رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وقت ہوا۔ یہی حال حضرت موسی علیہ السلام کے وقت ہوا۔ حضرت موسیٰ کے وقت تو بیاں تک حالت پہنچ گئی کہ ان لوگوں نے گھبرا کر کہ دیا ۔ موسیٰ تمہارے آنے سے ہمیں نقصان ن ہی ہی پہنچا ہے۔ کو تو کہا تھا کہ تمہیں کنعان کی زمین ملے گی۔ تم بادشاہ بنائے جاؤ سے گئے۔ ابراہیم کو جو وعدے دیئے گئے تھے ۔ وہ تم سے پورے کئے جائیں گے۔ تم ابراہیم اور یعقوب کے وارث بنو گے لیکن ہم تو تیری وجہ سے اپنے باپ دادا کی وراثت سے بھی جاتے رہے۔ پہلے سے زیادہ مشقت برداشت کر رہے ہیں۔ تو چونکہ حضرت موسی کو قبول کرنے پر فوراً ان کے دکھ بڑھ گئے ۔ اس لیے وہ اس مسئلہ کو جانتے تھے کہ محبوب کی خاطر تکلیف اُٹھانے سے ہی انعام ملتا ہے ۔ انہوں نے تو پیش آنے والی مشکلات کو صبر اور استقلال سے برداشت کیا۔ لیکن جو اس نکتہ سے ناواقف تھے ۔ انہوں نے خیال کیا کہ موسیٰ کا آنا ہمارے لیے تکلیف اور مصیبت کا باعث ہوا ۔ ایسا ہی حضرت ابراہیم اور حضرت علی کے وقت ہوا۔ اور چونکہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ ہماری سنت ہے۔ اس لیے ہم خیال نہیں کر سکتے کہ کسی نبی کے وقت بھی اس کے خلاف ہوا ہو ، بلکہ ہے۔ تو تو مينه