خطبات محمود (جلد 6) — Page 268
۲۶۸ مدد کے لیے بلانے کی بجائے انہیں پتھر مارنا شروع کر دے۔ اس کا نتیجہ کیا ہوگا، ہیں کہ ڈاکو باہر سے اس پر حملہ آور ہوں گے اور ہاتے اندر سے اس کو نقصان پہنچائیں گے پس جو شخص کسی سے لڑائی کی وجہ سے نماز با جماعت پڑھنا چھوڑتا ہے۔ وہ یقینی طور پر اپنی تباہی کا موجب بنتا ہے۔ ایک نادان کا لطیفہ مشہور ہے۔ مگر میرے نزدیک نماز چھوڑنے والا اس سے بھی زیادہ نادان اور بیوقوف ہے۔ کہتے ہیں کسی سے کوئی شخص برتن مانگ کرنے گیا تھا کچھ دن تک جو اس نے واپس نہ دیا تو ایک دن وہ خود لینے گیا۔ اور جا کر دیکھا کہ وہ اس کے برتن میں سالن ڈال کر کھا رہا ہے۔ یہ دیکھ کر کہنے لگا کہ تو نے میرے برتن میں سالن ڈال کر کھایا ہے۔ میں تیرے برتن میں یا برتن میں پاخانہ ڈالکر کھا دیگا۔ تو یہ سزا دینے کا عجیب طریق ہے کہ چونکہ فلاں سے میری لڑائی ہے۔ اس لیے میں نے نماز با جماعت پڑھنا چھوڑ دی ہے جو شخص اس طرح کرتا ہے ۔ اس نے اپنے دشمن کو اپنے اور پر خود غالب کر لیا کیونکہ اس کے دشمن نے ایک تو ا تو اسے اپنے پاس سے دُور کر دیا اور دوسرے خدا سے بھی دور کر دیا ہیں اس طرح اس نے اپنے دشمن کو نیچا نہیں دکھایا بلکہ اس کا درجہ اونچا کر دیا ہے ۔ اس کو نقصان نہیں پہنچایا ، بلکہ خود نقصان اُٹھایا ہے ۔ یہ سمت جہالت اور نادانی ہے۔ اس طرح اُس نے اپنے دشمن کو نیچا نہیں دکھایا بلکہ خود نقصان اُٹھایا ہے۔ یہ سخت جہالت اور نادانی ہے۔ کیونکہ کسی سے دشمنی کی وجہ سے نماز چھوڑنے کا ہرگز حکم ہیں۔ نماز باجماعت ادا کرنے کا خدا کا حکم کا ہے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لم کا حکم ہے ۔ اور اس شریعت کا حکم ہے جس کے بعد کوئی نئی شریعت نہیں آئے گی ۔ اور اس شریعت کا حکم ہے جس کا ایک شعشہ بھی بدل نہیں سکتا ہیں یہ مت سمجھو کہ احمدی کہلانے سے خدا کے حکموں کو توڑنے کی اجازت ہو گئی ہے۔ بلکہ پہلے کی نسبت بہت زیادہ فرض ہو گیا۔ کہ ہر ایک حکم: علم بر پورے طور پر عمل کرو۔ اس لیے عقل اور دانائی سے کام لو۔ اور خدا کے حکموں کو مت توڑو کیونکہ اب تم نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ واسلام کے ہاتھ پر دین کو دنیا پر مقدم کرنے کا عہد کیا ہے، اور شریعیت کو اچھی طرح سمجھا ہے ۔ اب اگر اس کے خلاف کرو گے ۔ تو دوسروں کی نسبت خدا کے غضب کے زیادہ مستوجب بنو گے ۔ خدا تعالی تمہیں توفیق دے کہ شریعت کے تمام احکام کی تم قدر کرو ۔ اور ان پر عمل پیرا ہو۔ آمین۔ ( الفضل ۲۹ جولائی شامله )