خطبات محمود (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 181 of 580

خطبات محمود (جلد 6) — Page 181

۱۸۱ پھر فرمایا ومن شر النفثت في العقد اور پناہ مانگتا ہوں ان سے جو گروہوں میں بداثرات پھونکنے والے ہیں۔ ومن شر حاسد اذا حسد اور پناہ چاہتا ہوں حاسد کے حسد سے۔ ہے۔ دنیا میں ان چار باتوں سے ہی انسان کو واسطہ پڑتا ہے اور کوئی شران چار سے باہر نہیں رہ جاتا ۔ دو وہ ہیں جو آفار جو آفات و مصائب کے متعلق ہیں اور دو وہ ہیں جو ترقی و عروج کے متعلق ہیں۔ ایک وقت انسان پر ایسا ہوتا ہے اور ایک وقت وہ ہوتا ہے جب وہ مصائب سے نکل کر ترقی کے میدان میں چلا جاتا ہے اور خوشی و خرمی کی زندگی بسر کرتا ہے۔ ایک وقت اس کی یہ حالت ہوتی ہے کہ وہ آفات سے بچنا چاہتا ہے اور دوسرے وقت جب وہ مصائب سے نکل جاتا ہے تو اس آرام نو اس آرام کے قیام کی خواہش کیا تھرتا ہے۔ پہلا ادنی درجہ ہے اور دوسرا اعلیٰ ایک وقت میں جبکہ جہالت کی زندگی بسر کرتا ہے چاہتا ہے کہ جہالت دور ہو کر اس کو علوم - لو علوم حاصل ہو جائیں اور جب علوم مل جاتے ہیں۔ تو ان کی حفاظت کی فکر ہوتی ہے۔ کہ جو کچھ میں نے حاصل کیا ضائع نہ ہو جاتے ۔ اسی طرح ایک وقت جبکہ بیمار ہوتا ہے۔ کوشش کرتا ہے کہ بیماری دور ہو جاتے اور جب بیماری دور ہو جاتی ہے تو قیام صحت اور افزائش طاقت کے لیے مقویات کا استعمال کرتا ہے ۔ اس سورۃ میں ان چاروں درجوں کا ذکر ہے (۱) فرمایا من شر ما خلق ۔ وہ بدیاں جو فرداً فرداً پائی جاتی ہیں (۲) وہ جو عام طور پر پھیل کر چھا جاتی اور اندھیرا کر دیتی ہیں یعنی ایسے فتنے جو اپنی وسعت سے سے تمام چیزوں کو گھیر لیتے ہیں تو مشکلات اور مصائب کے متعلق ہوا۔ (۳) من شر النقشت في العقد اب ترقی آتی ہے تمام سامان ترقی جمع ہو جاتے ہیں مگر وہ یہ فتنہ ان تمام سامانوں کو پراگندہ کر دیتا ہے۔ فرمایا کہ دعا کرو کہ میں اس فتنہ سے بھی پناہ چاہتا ہوں۔ کیا ہوتا ہے ؟ یہ کہ سامان عمدہ مل گیا۔ سستا بھی مل گیا۔ اور ہرقسم کی آسانیاں بھی پیدا ہو گئیں۔ اور درمیانی تمام دقتیں بھی رفع ہو گئیں ، لیکن آگے فائدہ اُٹھانے میں رکاوٹیں پیدا ہو جاتی ہیں ۔ اس کے متعلق فرمایا کہ وہ جو گر ہوں میں پھونکنے والی ہیں ان سے پناہ مانگتا ہوں یعنی وہ بد اثرات جن کے باعث سامان ضائع ہوکر نقصان اُٹھانا پڑتا ہے۔ ان سے محفوظ رہنے کی التجا کرتا ہوں ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ابتدائی سامانوں میں جو فتنہ ہو سکتے ہیں اور جن ذرائع سے ہو سکتے ہیں۔ ان سے بچایا جائے ۔ پھر فائدہ اُٹھانے کے بعد جو خرابیاں پیدا ہو سکتی ہیں ۔ اسے خدا ان سے بھی بچا۔ وہ حاسدوں کا احمد ہوتا ہے۔ ہے ۔ اس لیے دعا سکھلاتی کہ حاسدوں کا حسد اور ان کی ہر کوششوں سے پناہ مانگتا ہوں۔ اب بتاؤ ایسی جامع دعا کے بعد کس چیز کی ضرورت رہجاتی ہے اور کونسی مصیبت اور مشکل ہے جو