خطبات محمود (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 180 of 580

خطبات محمود (جلد 6) — Page 180

١٨٠ اور عام لوگوں کے سمجھے ہوئے جادو میں بڑا فرق ہے۔ لوگ جو تعویذ بتاتے ہیں وہ بے معنی اور بے اثر ہوتے ہیں ۔ مگر اسلام نے آفات سے بچانے کے لیے جوگر بتایا ہے اس میں طاقت ہے کہ اگر انسان اس پر عمل کرے اور اس کی تکرار کرے تو بہت سے فتنوں سے بچ جاتا ہے۔ لوگوں کے جادو محض لکیریں اور ہند سے اور اشارات ہوتے ہیں مگر میں آج اسلام کا ایک ایسا کلمہ بتاتا ہوں جس پر عمل کرنے سے انسان بلاؤں سے بیچ جاتا ہے ۔ فرمایا بسم اللہ الرحمن الرحیم میں اللہ تعالیٰ کا نا لیکر یہ عبارت پڑھتا ہوں ۔ جو تمام خوبیوں کا جامع ہے اور تمام نقصوں سے پاک ہے ۔ الرحمن وہ ایسی ہستی ہے جو بغیر کوشش کئے انسان کے وہم و خیال میں بھی جو کچھ نہیں ہوتا دیتی ہے ۔ الرحیم بلکہ اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ جب اس کے فضلوں کے ماتحت دیتے ہوتے سامانوں کو انسان استعمال کرے تو اپنے فضلوں کو دوبارہ اس پر نازل فرماتا ہے۔ میں ایسے خدا کا نام لیکر جو ایسی صفتوں اور ایسی صفتوں اور انیسی شان والا ہے۔ شروع کرتا ہوں آگے فرماتا ہے۔ قل اعوذ برب الفلق میں پناہ مانگتا ہوں ۔ برب الفلق اس خدا کی جو تمام مخلوقات کا رب ہے ۔ فلق کے معنی میں ہر چیز جو خلق ہوئی ۔ خدا تعالیٰ کے سوا تمام چیزیں اس میں داخل ہیں کیونکہ خدا تعالی امنیت نہیں ہے ۔ بلکہ وہ خالق ہے تو کس کی پناہ مانگتا ہوں ۔ اس ذات کی جو تمام مخلوق کارت ہے۔ کوئی چیز خواہ وہ زمینوں میں ہو خواہ وہ آسمانوں میں اس کی ربوبیت سے باہر نہیں پیس وہ ہستی جس اہر کی ربوبیت کی تمام چیزیں پہلے بھی محتاج تھیں ۔ اب بھی ہیں۔ آئندہ بھی رہیں گی۔ ایسے خدا کی میں پناہ ڈھونڈتا ہوں ۔ کس بات سے پناہ ڈھونڈتا ہوں ؟ من شر ما خلق ان تمام چیزوں کے شر سے جو اس نے پیدا کی ہیں کہتے ہیں ہاتھی کے پاؤں میں سب کا پاؤں ۔ مگر بہت سی مخلوق ہوگی جس کے پاؤں ہاتھی سے بڑے ہونگے ، لیکن یہ کہدینے سے کچھ بھی باہر نہیں رہتا۔ کہ جو کچھ خدا نے پیدا کیا ہے اس تمام کی بدی اور شر سے پناہ چاہتا ہوں ۔ پھر فرمایا من شر غاسق إذا وہ ایک عام بدی ہوتی ہے اور ایک خاص بعض اوقات شر خاص رنگ میں جوش مارتا ہے۔ جیسے تیاریاں وہار کے طور پر پھیلتی ہیں۔ غاسق رات کو کہتے ہیں اور وقب جب اس کی تاریخی پھیل جاتی ہے۔ اس لیے اس کا میطلب ہوا کہ میں نہ صرف معمولی مرضوں سے بلکہ ان سے جو عام طور پر پھیلنے اور تمام دنیا میں چھا جاتے ہیں ان سے پناہ مانگتا ہوں۔