خطبات محمود (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 182 of 580

خطبات محمود (جلد 6) — Page 182

دور نہیں ہو سکتی ۔ یہ دُعا ہے جو اسلام نے ہر ایک مومن کو سکھاتی ہے۔ اگر اس کا ورد کیا جائے۔ تو انسان بہت سی بلاؤں سے محفوظ رہ سکتا ہے ۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نہیں ہوتے تھے جب تک کہ ان دعاؤں کو پڑھ نہ لیتے تھے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا قاعدہ تھا کہ آپ جس وقت بستر پر تشریف لے جاتے تھے تو سورۃ اخلاص اور سورہ فلق اور سورۃ الناس کو پڑھ کر دونوں ہاتھوں پر پھونکتے اور جسم پر جہاں جہاں تک ہا تھ جا سکتا تھا ہاتھ پھیر لیتے اور ایسا ہی تین دفعہ کرتے ۔ اور اس کے ساتھ اور بھی بعض دعائیں ملاتے تھے اور آیت الکرسی بھی پڑھتے تھے لیے یہ اس شخص کا دستور العمل تھا جس کے لیے اللہ تعالیٰ کا وعدہ تھا والله يعصمك من الناس را المائده : ۶۸) اور جس کے لیے خدا کی حفاظت ہر طرف سے قائم تھی اس سے خیال کر سکتے ہو کہ اور لوگوں کے لیے ایسا کرنا کس قدر ضروری ہے ۔ جو لوگ یہ دُعا نہ نہیں پڑھتے اس کے یعنی نہیں ہیں کہ ان کو اس کی ضرورت نہیں ہے۔ ضرورت ہے مگر وہ لوگ اس سے واقف نہیں۔ اگر جانتے تو ضرور پڑھتے، لیکن میں آپ لوگوں کو آگاہ کرتا ہوں کہ قرآن کریم نے نہیں مصاب و آفات سے بچنے کا یہ گر بتا دیا ہے یہ گر بتا دیا ہے اور اس سورۃ میں تمام جسمانی آفتوں کا ذکر ہے اور ان سے محفوظ رہنے کا طریق بتایا گیا ہے۔ روحانی آفات اور ان سے بچنے کا ذکر اگلی سورۃ علی سورۃ میں ہے ۔ پس تمام ابتلاوں سے بچنے کا گر اس سورۃ میں ہے، لیکن یاد رکھنا چاہتے کہ نہ تو انسان کو بامل ہی اسباب کو ترک کر دینا چاہتے اور نہ بالکل اسباب پر ہی گر پڑنا چاہتے۔ کیونکہ اسباب سے ہرگز ترقی نہیں ہو سکتی جب تک کہ اللہ تعالیٰ پر توکل نہ ہو۔ اور اس کا فضل شامل حال نہ ہو۔ یہ کلمات اسباب ترقی اور حفاظت سے منع نہیں کرتے۔ اصل پیچ خیالات ہوتے ہیں۔ اگر بیج کھو کھلا ہو تو کبھی عمدہ کھاد اور اچھی زمین اس کو فائدہ نہیں دے سکتی ہیں اسباب مہیا کرو لیکن باوجود اس کے کامیابی اس وقت ہوگی جب اللہ تعالیٰ پر توکل ہو گا اور خدا کے فضل کے جذب کرنے کے لیے دُعاؤں کی بھی ضرورت ہے۔ میں نے جو آج یہ سورۃ پڑھی ہے۔ اس کی خاص غرض ہے اور وہ یہ کہ جیسا کہ مختلف اخبارات سے معلوم ہو رہا ہے۔ پچھلے دنوں میں جو مرض پھیلا تھا۔ وہ آجکل پھر بعض مقامات پر پھوٹ رہا ہے اور یورپ میں تو اس دفعہ قیامت کا نمونہ بنا ہوا ہے لکھا ہے کہ ہسپتال اس قدر مریضوں سے پر ہیں کہ بہت سے مریض ہسپتالوں کے سامنے پڑے پڑے مر جاتے ہیں اور ان کے لیے علاج کرنے کا موقعہ له بخاری کتاب التفسير باب فصل المعوذات AVI