خطبات محمود (جلد 6) — Page 165
۱۶۵ 31 فرموده ۲۱ فروری شا ۱۹ له بمقام لاہور حضور نے تشہد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا :- چونکہ چند دن سے تواتر بولنے اور کئی اصحاب سے گفتگو کرنے کی وجہ سے حلق میں کسی قدر ارادہ ہے ۔۔ که تکلیف ہو گئی ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ عورتوں تک آوازہ کا پہنچنا مشکل ہوگا ۔ اس لیے! مختصر وعظ کے بعد نماز پڑھا دوں ۔ اور اس کے بعد حافظ روشن علی صاحب وعظ کریں گے ۔ اسلام نے ہاں ہم پر بہت سے احسان کہتے ہیں اور اس کے ذریعہ اللہ تعالیٰ کی رضا اور قریب حاصل ہو سکتا ہے ۔ اس کے ذریعہ اللہ کے احسانوں اور فضلوں کو جذب کیا جا سکتا ہے۔ وہاں ہمارے لیے کچھ ذمہ داریاں اور فرائض بھی مقرر کئے گئے ہیں اس میں کوئی شک نہیں کہ اسلام سے پہلے کے جس قدر مذاہب ہیں۔ ان میں کوئی مذہب اسلام کے برابر خو بیاں نہیں رکھتا ۔ اور کسی مذہب کے پیرووں پر ایسے احسانات کرنے کے وعدے نہیں ہیں جیسے اسلام کے پیروؤں پر ، لیکن اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ جس قدر ذمہ داریاں مسلمانوں کی قرار دیتی ہیں دوسروں کی نہیں ۔ یہ ٹھیک ہے کہ پہلے لوگوں کو ذرا ذرا سی باتوں کا ذمہ دار قرار دیا گیا تھا ۔ مثلاً فلاں قسم کے برتن ہوں ۔ فلاں قسم کا لباس ہو، لیکن جس طرح اسلام میں ہر ایک بات ایک انتظام اور قاعدہ کے ماتحت اور خدا تعالیٰ کے لیے تیار رہنے کا سبق دیا گیا ہے اور کسی مذہب میں نہیں کوئی مذہب ایسا نہیں ہے جس نے اس طرح انتظام کے ساتھ عبادت کرنے کا حکم دیا ہو جس طرح مسلمانوں میں پانچ وقت نماز ہے۔ پھر کوئی مذہب نہیں جس میں اسلام کی طرح ہفتہ میں ایک دن ایسا مقررہ ہو جس میں جمع ہونے کیلئے خاص ہدایت ہو۔ اسی طرح یہی سلسلہ حج تک پہنچتا ، اور ایک مومن کے لیے اپنی زندگی میں بہت سا وقت عبادت میں خرچ ہوتا ہے، لیکن اس تفصیل اور انتظام کے ساتھ کسی اور مذہب میں عبادت کے احکام نہیں ۔ نہ روزے کے ۔ نہ حج کیے اور نہ زکواۃ کے۔ صرف اسلام ہی ہے جس نے اس قسم کی پابندیاں اپنے پیروؤں پر عائد کی ہیں۔ اس تفصیل کے ساتھ پہلی کتابوں میں ذکر نہیں ہے۔ اور وہ باریک اخلاقی باتیں جنہیں اس وقت سمجھنے کے لیے انسان تیار نہ تھے بیان نہیں کیا گیا۔ بلکہ موٹی موٹی باتیں بنادی گئیں۔ شدی اگر ایک وقت ایک نبی نے آکر یہ کہا کہستی کا مقالہ