خطبات محمود (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 164 of 580

خطبات محمود (جلد 6) — Page 164

کرنے کی ضرورت ہے اور علم کے حصول کی ضرورت ہے۔ ابتلاؤں میں ثابت قدم رہنا چاہتے۔ اس لیے ساتھ ہی یہ بھی یادرکھنے والی بات ہے کہ جو لوگ خدا کی طرف لوگوں کو بُلاتے۔ اور گمراہی سے نکال کر ہدایت کی طرف لانے کی کوشش کرتے ہیں ان کے ساتھ ابتلا بھی لگے ہوتے ہوتے ہیں کیونکہ خدا تعالیٰ بتانا چاہتا ہے کہ چونکہ یہ میری باتیں لوگوں تک پہنچاتے ہیں ۔ اس لیے ان پر کوئی کامیاب نہیں ہو سکتا تو ان پر خواہ اپنے نفس کے یا رشتہ داروں کے یا اور لوگوں کے ذریعہ ابتلا۔ آنے ضروری ہیں جن میں سے کچھ تو خدا تعالیٰ کی طرف سے ہوتے ہیں اور کچھ شیطان کی طرف سے خدا تعالیٰ کی طرف سے تو اس لیے کہ تا دنیا کو دکھاتے کہ یہ گو مغلوب اور کمزور تھا، لیکن غالب اور طاقت ور ہو گیا ہے اور شیطان کی طرف سے اس لیے کہ ان باتوں میں پڑ کر اپنے اصل مقصد کو چھوڑ دے ۔ اس لیے مومنوں پر بلا ضرور آتے ہیں، لیکن جو ان میں ثابت قدمی دکھاتے ہیں وہی کامیاب ہوتے ہیں۔ اس لیے فرمایا وَ تَوَاصَوْا بِالْحَقِّ وَتَوَاصَوا ン بالصبر کہ جب ایمان ہوتا اور عمل صالح کرتے ہیں تو ایک دوسرے کو سکھاتے اور ایک دوسرے کی مدد کرتے ہیں۔ مومن پر جب ابتلاء آتا ہے تو وہ کہتا ہے کہ بات ہی گیا ہے میں خدا کے رسند میں مر بھی جاؤں تو کیا ہے ۔ تو ہر ایک مومن کو یہ باتیں ذہن نشین کرنی ضروری ہیں ۔ اور ان پر عمل کرنا فرض ہے۔ کیونکہ جب تک یہ نہ ہوں کامیابی نہیں حاصل ہو سکتی۔ پس تم لوگ ان کو یاد رکھو اور اپنے نفس کا مطالعہ کرو کہ اسمیں یہ پائی جاتی ہیں۔ یا نہیں۔ کوئی شخص جو صرف چندہ دیتا ہے اور علم حاصل کر کے تبلیغ نہیں کرتا۔ وہ فاتحین میں سے نہیں ہے۔ یا علم تو حاصل کرتا ہے، لیکن اس کے پھیلانے کے ذریعہ پر عمل نہیں کرتا وہ بھی فاتحین میں سے نہیں ہے۔ یا جو علم کے پھیلانے کے ذریعہ کو تو مہیا کرتا ہے، لیکن اپنے وقت کی قربانی نہیں کرتا ۔ وہ بھی فاتحین میں شامل نہیں ہے ۔ یا جوان سب باتوں پر عمل کرتا ہے مگر کسی انتلار میں ثابت قدم نہیں رہتا۔ وہ بھی فاتحین میں شامل نہیں ہے ۔ ہاں جس میں یہ ساری باتیں پائی جاتی ہیں کہ علم حاصل کرے اس کے آگے پہنچانے کا سامان بہم پہنچائے ۔ وقت کی قربانی کرے ۔ اس پر جو بلام آئیں ان میں ثابت قدم رہے۔ وہ فاتحین میں شامل ہو گا ۔ نہیں آپ لوگ یاد رکھیں کہ آپ کے ذمہ بہت بڑا کام ہے اور جن کے ذمہ اتنا بڑا کام ہو ۔ ان کو بہت زیادہ فکر کرنی چاہیتے ۔ خدا تعالیٰ آپ لوگوں کو توفیق دے کہ ان عقاید پر قائم رہیں جو خدا تعالیٰ کے نزدیک صحیح اور درست ہیں۔ اور ان ذرائع پر عمل کرنے کی توفیق بخشے جو کامیابی کے لیے مقرر ہیں ؟ الفضل ۲۵ فروری شاشاته ) *** "