خطبات محمود (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 166 of 580

خطبات محمود (جلد 6) — Page 166

144 سختی نبی نے اس سے کرو تو دوسرے وقت دوسرے نبی نے اسی قوم کو یہ کہا کہ سختی کا مقابلہ نرمی سے کرو مگر اس کے مقابلہ میں مسلمانوں کو دیکھو ان پر کسی قدر ذمہ داری ڈالی گئی ہے کہ جہاں سختی کے مقابلہ میں سختی کا موقع ہو و بال سختی کرو اور جہاں نرمی کا موقع ہو وہاں نرمی کرو گویا ہر ایک مومن کا فرض ہے کہ وہ خود سوچے اور خود فیصلہ کرے کہ اس موقع پر مجھے کیا کرنا چاہتے۔ آیا سختی کا جواب سختی سے دینا چاہتے ۔ یا نرمی سے اور جیسا مناسب موقع ہو جواب دے تو جہاں مسلمانوں پر سپی قوموں کے مقابلہ میں انعام کی ترقی ہوئی ہے وہاں ذمہ داریاں بھی بڑھ گئی ہیں ۔ اس لیے مومن کا فرض ہے کہ اپنی ذمہ داریوں کو سمجھے۔ اورکسی قسم کا دھوکہ نہ کھاتے کیونکہ اگر اسے یہ بتایا گیا کہ اگر اسے یہ بتایا گیا ہے کہ صراط الذین انعمت عليهم میں سے بنے دوسری طرف اسے یہ بھی کہ دیا گیا ہے کہ غیر المغضوب عليهم ولا الضالین میں سے نہ بنے اور خیر امم ہوتے ہوئے شہر اہم نہ ہو جائے مگر بہت لوگ ہو ہوتے ہیں جو اس بات کو نہیں سمجھتے اس نے اس کے لیے خاص کوشش کرنا چاہیتے اور اس کے ساتھ و کے ساتھ دعاؤں میں مشغول رہنا چاہیے۔ کیونکہ خدا تعالیٰ کی مدد کے بغیر کبھی انسان کامیاب نہیں ہو سکتا ۔ خدا تعالیٰ آپ لوگوں کو اس کی توفیق دے اور ان فصلوں کا وارث بنائے جن کے و عاد سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت مسیح موعود کے ذریعہ آپ کو دیتے گئے ہیں ؟ ( الفضل یکم مارچ شاملة )