خطبات محمود (جلد 2) — Page 383
رضی اللہ عنہ جو اہل حدیث میں سے تھے اور ان کے لیڈر تھے ، انہوں نے بھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام کا ذکر سنا۔ شاید انہوں نے براہین کا اشتہار پڑھا یا آریوں اور عیسائیوں کے خلاف کسی اخبار میں آپ کا مضمون دیکھنا تو ان کے دل میں خواہش پیدا ہوئی کہ میں خود انہیں جا کر دکھا آؤں، چنانچہ وہ قادیان پہنچے مگر ان دنوں حضرت مسیح موعود علیہ السلام قادیان میں نہیں تھے بلکہ کہیں باہر تشریف لے گئے تھے ۔ غالبا یہ ان دنوں کا ذکر ہے جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة و السلام چلہ کے لئے ہوشیار پور تشریف لے گئے تھے وہ قادیان سے ہوشیار پور پہنچے مگر وہاں پہنچ کر انہیں معلوم ہوا کہ آپ سے ملاقات نہیں ہو سکتی کیونکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنے ساتھ والوں کو ہدایت دے دی تھی کہ کسی کو اندر نہیں آنے دنیا اور شیخ حامد علی صاحب کو دروازہ پر بٹھایا ہوا تھا کہ وہ نگرانی رکھیں اور کسی کو اندر نہ آنے دیں ۔ یہ وہاں پہنچے اور انہوں نے منتیں کیں کہ مجھے ملنے دو مگر انہوں نے نہیں مانا آخر مولوی برہان الدین صاحب نے کہا کہ مجھے صرفند چق اُٹھا کر ایک دفعہ دیکھ لینے دو۔ اس سے زیادہ میں کچھ نہیں کروں گا ۔ لیکن حامد علی صاحب نے یہ بات بھی نہ مانی مگر اللہ تعالے نے چونکہ ان کی خواہش کو پورا کرنا تھا، اس لئے اتفاق ایسا ہوا کہ ایک وف حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة و السلام کو کوئی ضرورت پیشیں آئی اور آپ نے فرمایا میان حامد علی ! تم خلال چیز لے آؤ ۔ وہ اس طرف چلے گئے اور انہیں موقع میسر آگیا ۔ یہ چھیڑی چوری گئے اور انہوں نے حق اٹھا کر حضرت صاحب کو دیکھا۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اس وقت کچھ لکھ رہے تھے اور جلدی جلدی کرنے میں ٹہل رہے تھے۔ یہ عام انسان کی نظر میں بہت معمولی بات ہے مگر صاحب عرفان کی نگاہ میں یہ بڑی بات تھی۔ انہوں نے آپ کو دیکھا اور واپس آگئے لوگوں نے آپ سے پوچھا مولوی صاحب آپ نے کیا دیکھا ۔ انہوں نے کہا ۔ اس نے بہت دور جانا ہے ۔ یہ کمرے میں بھی تیز تیز چل رہا تھا جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس نے بڑا کام کرنا ہے شید۔ ہے یہ تو حقیقت یہ ہے کہ ہونہار بروا کے چکنے چکنے پات ہے جس نے جینا ہوتا ہے اس میں جینے کے آثار پائے جاتے ہیں ۔ اور جس نے مرنا ہوتا ہے اس میں مرنے کے آثار پائے جاتے ہیں ۔ انگریز بھی نہیں سمجھتے تھے کہ ان کو کون نکال سکتا ہے۔ فرانسیسی بھی یہی سمجھتے تھے کہ ان کو انڈو چائنا سے کون نکال سکتا ہے کیسی زمانہ میں ہسپانیہ والے بھی یہی سمجھتے تھے کہ ان کو ہسپانیہ سے کون نکال سکتا ہے مسلمان بھی یہی سمجھتے تھے کہ ان کو ہندوستان اور چین وغیرہ سے کون نکال سکتا ہے مگر آخر کل گئے۔ یہ موت ہے جو ایک کے بعد دوسری قوم پر آئی اور کسی قوم نے پہلی قوم سے عبرت حاصل نہیں کی۔ انفرادی موت سے بچا نہیں جاسکتا۔ لیکن قوم کی موت سے بچا سے ۔ ان جانتا ہے اگر وہ زندہ رہنے کی کوشش کرے۔ مگر آج تک کسی قوم نے یہ کوشش نہیں کی جو جا لیکن قوم موت بھی آتا ہے وہ فوراً زہر کھانا شروع کر دیتا ہے۔ اور موت کو قبول کر لیتا ہے ۔ والعسل در جولائی شده)