خطبات محمود (جلد 2) — Page 382
لوگوں کا ایک ایک بچہ ہوتا ہے تو ان کے آٹھ آٹھ ہوتے ہیں۔ غرض قوموں کی ترقی کا راز صرت کو بانیوں میں ہے۔ مگر بہت سے لوگ اپنی کم ہمتی کی وجہ سے پہلے قدم پر بھی گر جاتے ہیں اور ان کی لله حالت بالکل ایسی ہی ہو جاتی ہے جیسے اُڑنے نہ پائے تھے کہ لیکن جو لوگ قربانیوں کے معیار کو بڑھاتے چلے جاتے ہیں وہ اس زمانہ کو دیکھتے ہیں جبیں ہیں ان کی قربانیوں کا بدلہ ان کو ہلتا ہے۔ ایران کے بادشاہ نے صحابہ کو صرف ایک ایک پیوند دنیا چاہا مگر جو صحابہ کو ملا اس کے مقابلہ میں پھیلا پونڈ کی کیا حیثیت تھی ۔ حضرت عبد الرحمان بن عوف رضی اللہ عنہ کے متعلق آتا ہے کہ جب وہ فوت ہوئے تو بات جود اس کے کہ وہ اس قدر صدقہ و خیرات کرنے والے تھے کہ سارے عرب میں مشہور تھے پھر بھی ان کے وراء کو لاکھوں روبہ علم نہ تو اللہ تعالے غلبہ کے موقع پر قوموں کو بہت کچھ دیتا ہے لیکن اصل سوال یہ ہوتا ہے کہ اس وقت بھی اس کی عادت میں یہ بات داخل ہو کہ اپنے نفس پر خرچ کرنے کی بجائے وہ اس بروچے کو دین پر پے کرے ، غرباء پر خرچ کر ہے ، صدقہ و خیرات میں دے ۔ یہ تو بے نمک شریعت کہتی ہے کہ جب تمھیں دولت ملے تو تمہارے جسم اور چہرہ پر بھی اس کے کچھ آتا ہ ہونے چاہئیں مگر وہ کچھ آثار ہی کہتی ہے یا یہ نہیں کہتی کہ ساری دولت اپنے نفس کے لئے خرچ کرنی شروع کردو اور اچھے کھانے اور اچھے پینے میں مشغول ہو جاؤ لیکن بیوقوف اور نادان انسان اس وقت کے آنے سے پہلے پھر جاتا ہے اور اس کی مثال ویسی ہی ہو جاتی ہے جیسے ہمارے ملک میں مشہور ہے کہ مجھکتے جٹ کٹوری تھی پی پی۔ پانی آپھر یا ہیں پھیلا ایک کٹوری کی بادشاہوں کی دوستوں کے مقابلہ میں کیا حیثیت ہے۔ مگر وہ صرف کٹوری ملنے پر ہی اتنا مغرور ہو جاتا ہے کہ کبھی اس گھر میں جاتا ہے اور یہ دکھانے کے لئے کہ ہیں کے پاس کٹوری ہے وہ ان کے گھڑے سے پانی پینے لگ جاتا ہے کبھی دوسرے گھر میں جاتا ہے اور کھتا ہے کہ مجھے پیاس لگی ہے اور یہ بتانے کے لئے کہ اس کے پاس کٹوری ہے وہ اس میں ان کے سامنے پانی پیتا ہے جو قوم اتنے بڑے وعدوں کے ہوتے ہوئے ایران کے بادشاہ کے پونڈ یا ایک کٹوری پر مرنے لگتی ہے اس کے متعلق کیا امید کی جاسکتی ہے کہ وہ بڑھے گی ۔ وہی قوم بڑھتی ہے جو خدا تعالے کے وعدوں کو اپنے سامنے رکھتی ہے جو مجھتی ہے کہ ہم نے اخلاق اور روحانیت کے ساتھ دنیا کو فتح کرنا ہے اور جو لوگ یہ سمجھتے ہیں وہ ویسی ہی قربانی بھی کرتے ہیں اور ویسی ہی محنت بھی کرتے ہیں ۔ ۔ قة حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جب نیا نیا دعوئی فرمایا تو مولوی بدر بان الدین صاحب