خطبات محمود (جلد 2) — Page 278
٢٢٨ ۳۳ د فرموده ۲۷ نومبر ۱۹۳۳ء بمقام قادیان ) ( مجھے چونکہ شدید نزلہ اور کھانسی ہے اور میں صرف عید کی وجہ سے یہاں آگیا ہوں۔ اس اور لئے میں بہت ہی اختصار کے ساتھ چند باتیں کہوں گا ۔ جیسا کہ ہر مسلمان کو اس بات سے واقف ہونا چاہئیے یہ عید جو عید الاضحیہ کہلاتی ہے یعنی قربانی کی عید حضرت اسمعیل علیہ السلام کی قربانی کی یاد ہے جو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے خدا! تعالے کے حضور میں پیش کی تھی۔ حضرت ابراہیم علیہ اسلام نے رویا میں دیکھا کہ گویا انہوں نے یاد اپنے بیٹے کو اللہ تعالیٰ کی راہ میں ذ ہیں ذبح کر دیا ہے ۔ اور چونکہ اس وقت تک انسانی قربانی کی ممانعت کا حکم نہ ہوا تھا حضرت ابراہیم علیہ اسلام نے یہی سمجھا کہ شاید ان سے حضرت اسمعیل کی قربانی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ حضرت انجیل علیہ اسلام اس وقت چھوٹے سے تھے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ان کو بتایا کہ میں نے اس قسم کی رؤیا دیکھی ہے اور حضرت اسمعیل علیہ السلام نے جو ایک اچھی سلام تربیت پائے ہوئے بچے تھے ، باپ کے اس رویا کو سن کر اس بات کی اہمیت کو سمجھ لیا کہ خدا تعالی کا حکم بہر حال پورا ہونا چاہیے۔ ہیئے۔ اور انہوں نے اپنے والد سے کہدیا کہ آپ اپنی رڈیا کو پورا کریں میں اس قربانی کے لئے اپنے آپ کو پیش کرنے کو تیار ہوں لیکن جب حضرت ابراہیم علیہ سلام نے اپنے بیٹے کے گلے پر چھری پھیر نی چاھی تو اللہ تعالے نے الہاما انہیں تبا د یا کہ در حقیقت رویا کی تعبیر اور تھی۔ اور کہ تم نے ظاہری طور پر بھی اپنی اس رویا کو پورا کر دیا ہے ہے کیونکہ تم نے اپنے بیٹے کو فی الواقع ذبح کرنے کا ارادہ کیا اور اس پر عمل کرنے کے لئے تیار ہو گئے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلامہ نے اپنی نسل کو خدا تعالے کی راہ میں قطع کرنے کا فیصلہ کر لیا کیونکہ اس وقت تک ان کے ہاں صرف ایک ہی بچہ تھا تو اس کے بالمقابل خدا تعالے نے فیصلہ کیا کہ میں تیری نسل کو کبھی قطع نہ ہونے دوں گا ۔ اور خدا تعالیٰ کی قدرت ہے کہ دیکھ لو آج سے 19 سو سال قبل حضرت مسیح علیہ السلام پیدا ہوئے اور ان سے قریبا چودہ سو سال قبل حضرت موسی علیہ السلام پیدا ہوئے۔ یہ گویا ۳۳ سو سال ہوئے اور حضرت موسی علیہ السلام سے اندازاً چھ سو سال قبل حضرت ابراہیم علیہ السلام ہوئے یہ گویا چار ہزار سال کے قریب کا زمانہ ہے جب ایک دن ایک غیر آباد علاقے میں خدا تعالیٰ کا ایک نامور اور ایک نبی اپنے اکلوتے بیٹے کو جو انٹی سالی کی عمر میں ان کے ہاں پیدا ہوا تھا ایک سنسان جنگل میں اس نئے لے گیا کہ