خطبات محمود (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 279 of 432

خطبات محمود (جلد 2) — Page 279

۲۷۹ خدا تعالے کے لئے اُسے ذبح کر دے۔ اس وقت آسمان اور زمین کے خدا نے۔ تمام کائنات کے پیدا کر بنے والے خدا نے عرش سے آواز دی کہ اسے ابراہیم تو نے اپنے رویا کو سچا کر دکھایا اور اپنی نسل کو قطع کرنے کے لئے تیار ہو گیا ۔ مگر میں تیری اولاد کو کبھی ختم نہ ہونے دونگا ، تیری نسل کو کبھی قطع نہ ہونے دوں گا۔ بلکہ اسے بڑھاؤں گا یہاں تک کہ جس طرح آسمان کے ستارے نہیں گئے جا سکتے تیری نسل بھی نہ گنی جاسکے گئی ہے اب دیا دیکھو آج سے چار ہزار سال قبل فلسطین کے ایک سنسان جنگل میں دنیوی لحاظ سے ایک نہایت ہی کمزور شخص کو اللہ تعالے کی طرف سے یہ آواز آئی تھی اور آج دنیا کی بہترین جندب قوم کے سردار ، دنیا کی بہترین طاقت رکھنے والی قوم کے سردار، دنیا کی بہترین سائنٹیفک قوم کے سردار نے چند سال قبل یہ فیصلہ کیا کہ وہ ابراہیم (علیہ السلام) کی کہ وہ ابراہیم (علیہ السلام) کی نسل کو تباہ کر دے گارے باوجود اور سات سال قبل دنیا نے یہ اندازہ اندازہ بھی کر لیا۔ کہ یہودی قوم اب مٹ جائے گی میگر اس کے کہ بیودی قوم بیودی قوم اپنے مذہب کو چھوڑ چکی ہے۔ چونکہ وہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی جسمانی اولاد سے ہے، اس لئے چار ہزار سال قبل اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام سے جو وعدہ کیا تھا کہ میں تیری نسل کو کبھی قطع نہ ہونے دوں گا، اس نے اس کے حق میں اسے پورا کر دکھایا۔ جرمن قوم کے سردار ہٹلر نے یہ فیصلہ کیا کہ وہ یہودی قوم کو ہلاک کر دیگا ، اسے تباہ کر دے گا۔ اور بظاہر یہ بظاہر یہ نظر بھی آتا تھا کہ وہ ایسا کر دے گا، مگر نوش پر سے خدا تعالے کہہ رہا تھا کہ میں اسے ناکام سے نا کام کر دوں گا ۔ بے دوں گا ۔ بے شک آج یہودی قوم بے حقیقت ہے اور اسے کوئی طاقت حاصل نہیں اور بے شک دنیا کا سب سے زیادہ اقتدار والا سیاسی لیڈر اس سے ٹکرایا ۔ ایسا زبردست لیڈر کہ جس کے سامنے برطانیہ جیسی عظیم الشان سلطنت کے وزیر اعظم مسٹر چیمبر تین بھی سر جھکا آئے تھے لیکن آخر وہ وعدہ پورا ہوا جو آج سے قریبا چار ہزار سال قبل فلسطین کے ایک جنگل میں اللہ تعالے نے اپنے بندے سے کیا تھا اور خدا تعالے کی عجیب قدرت ہے کہ آج چھ سال کے بعد دنیا یہ بحث کر رہی ہے کہ مسلہ زندہ ہے یا مر چکا ہے ۔ وہ جرمنی میں ہے یا کہیں بھاگ گیا ہے ۔ وہ پاگل ہو گیا ہے یا تندرست ہے۔ اب دیکھ لو خدا تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ساتھ جو وعدہ کیا تھا اسے کسی طرح پورا کیا۔ یہود نے خدا تعالے کو بھلا دیا مگر خدا تعالے نے یہود کو نہیں پھیلایا۔ انسان بے وفا ہو سکتا ہے مگر خدا تعالے بے وفا نہیں ہو سکتا ۔ جب ہٹلر یہ کہ رہا تھا کہ میں یہود کو مٹا ود کو مٹا دوں گا خدا تعالے اپنے عرش سے یہ کہ رہا تھا کہ چار ہزار سال ہوئے ہم نے دنیوی شان و شوکت کے لحاظ سے ایک معمولی حیثیت کے انسان سے فلسطین کے جنگل میں یہ وعدہ کیا تھا کہ ہم اس کی