خطبات محمود (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 242 of 432

خطبات محمود (جلد 2) — Page 242

۲۴۲ طرف تو میدان جنگ سے بھاگتا چلا جائے سانس چڑھا ہوا ہو تم لڑکھڑا رہے ہوں، چوہ درد ہو ۔ آنکھیں باہر نکل رہی ہوں ۔ ہونا ۔ ہونٹوں پر ڈر کے مارے پپڑیاں جم رہی بن کر رہی ہوں ۔ وہ بھار د بھا کتا بھی جائے اور مڑ مڑ کر تعاقب کرنے والوں کو یہ بھی کہنا جہات کہ تم جانتے ہو کہ کہیں مسلمان با در کا بیٹا ہوں ۔ کیا تم سمجھتے ہو اس کی اس بات سے ان کے دلوں پر رعب طاری ہو گا یا غربت ان کے دلوں میں پیدا ہوگی۔ یا ان کے دلوں میں اور بھی غصہ پیدا ہو گا۔ اور وہ کہیں گے کہ ٹھہر تو جا۔ تو ہمارا ہی دشمن نہیں بلکہ اپنے باپ دادا کا بھی دشمن ہے جس نے اپنی ہی عزت بر باد نہیں کی بلکہ اپنے باپ دادا کی بھی کی ہے۔ پس قربانی اور ایثار کا اعلیٰ نمونہ دکھاؤ اپنے لئے عید الفطر حاصل کرو تاکہ اس کے بعد خدا تھا بچے خدا نما ئے کا وہ کلام پورا ہو کہ جو مومن ہوتے وہ اپنے باپ دادا میں سے جنت میں بلند مرتبہ حاصل کرنے والوں کے ساتھ رکھے جائیں گے اور تمہارا خدا تمہیں کیے کہ پہلے تم تم نے نے خدا خدا بتائے تا کی راہ میں قربانی کر کے عید الفطر حاصل کی تھی ادرا اور مومن بنے تھے ، اب آؤ عید الا ضحیہ کا مزہ ہم تم کو چکھائیں۔ اور تمہیں حضرت ابراہیم اور حضرت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے و آلہ وسلم کے قرب میں جگہ دیں ۔ اور کم دیں ۔ اور یقینا ذاتی خوشی کے بعد یہ دوسری خوشی اتنی عظیم الشان ہوگی کہ اس کا تصور کر کے بھی دل خوشی سے گزوں حضرت اچھنے لگتا ہے ۔ کیونکہ بیوہ خوشی ہے جو حضرت ابراہیم علیہ السلام کو نصیب ہوئی تھی۔ حف محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو نصیب ہوئی تھی اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام کو نصیب ہوئی تھی۔ جب پہلے ہم اپنے لئے ایک عید پیدا کر لیتے ہیں تو خدا تعالے ہمارے لئے ده دوسری عید پیدا کرتا ہے جو ابراہیمی عید ہے۔ محمدی عہد ہے اور احمدی عید ہے ۔ پس پہلے عید الفطر پیدا کرو۔ اور اس سے پہلے قومی کامیابی کے دان کا انتظار کرنا تمہیں ایسا ہی احمق بناتا ہے جیسے وہ احمق ہے جو عید الاضحیہ پہلے کرنا چاہے اور عید الفطر کا بعد میں انتظار کرے ۔ تم جانتے ہو کہ ایسے شخص کے لئے نہ عید الاضحیہ آئے گی اور نہ عید الفطر وہ عید الاضحیہ کو پہلے حاصل نہیں کرے گا بلکہ دونوں عیدوں سے مو دونوں عیدوں سے محروم رہے گا۔ مگر جو پہلے عید الفطر کرے گا۔ اسے عید الاضحیہ بھی نصیب ہوگی اور وہ ایک کی جگہ دو عیدیں دیکھے گا۔ پس آؤ اور اپنے دلوں میں پختہ ارادہ کر لو۔ کہ پہلے اپنی ذاتی قربانیوں کے ساتھ تم اپنے لئے عید پیدا کرو گے تاکہ اس کے بعد تمہارا خدا آسمان سے تمہارے لئے ابر اسیمی عید اتارے ی عید امارے اور احمدی عید انارے - اللهم آمین ۔ محمدی عیدا والفضل والفضل ۱۷ جولائی ۱۹۵۷ء صد تا ،