خطبات محمود (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 241 of 432

خطبات محمود (جلد 2) — Page 241

۲۴۱ باہر تھا جس کی نسبت وہ سمجھتا تھا کہ اسے معلوم ہے کہ اس کے ماں باپ کہاں خزانہ دفن کیا کرتے ہیں۔ ایک رات اس بچہ کو اجابت کی حاجت ہوئی اور اس کے باپ نے نوکر سے کہا کہ اسے ۔ لے جاؤ اور پاخانہ کر الاؤ ۔ وہ اسے اٹھا کر لے گیا اور بٹھا کر کہنے لگا کہ اگر تم نے پاخانہ پھرا تو بار ہے کہ کھال ادھیڑ دوں گا اور ڈنڈا لے کر کھڑا ہو گیا۔ بچہ اس دھمکی سے ایسا ڈرا کہ میں پچھیں منٹ بغیر پاخانہ پھرے بیٹھا رہا ۔ پھر نوکر نے اسے اٹھایا اور کہا کہ اگر میرے اس سلوک کا تم نے اپنے باپ سے ذکر کیا تو قتل کردوں گا ۔ یہ کہ کر واپس لے آیا۔ اور کہا کہ اسے حضور پاخانہ کوئی نہیں آیا۔ لیکن دیر تک انتظار کرتا رہا مگر اس نے نہیں پھرا ۔ اور میں واپس لے آیا ہوں لڑکا پہلے تو ڈر کے مارے خاموش رہا لیکن تھوڑی دیر کے بعد اس نے پھر باپ سے کہا کہ پاخانہ آیا ہے۔ اس لئے پھر لو کر کے سپرد کر دیا اور نوکر نے پھر وہی سلوک کیا اور اسی طرح اٹھا کر لے آیا ۔ پھر تھوڑی دیر کے بعد بچہ نے باپ سے کہا کہ سخت پاخانہ آیا۔ لیکن دھمکی کی وجہ سے یہ نہ کمہ سکا کہ نو کہ پھر نے نہیں دنیا ۔ تیسری دفعہ پھر آقا نے اس کے سپرد کیا اور کہا کہ اب کے جا کر اسے بٹھاؤ اور اگر اب بھی نہ پھرے تو خوب مار وہ ۔ یہی اجازت تو کر چاہتا تھا وہ اسے لے کر پھر گیا اور کہا کہ بتا تیرے ماں باپ کہاں گڑھا کھودا کرتے ہیں۔ اگر تو نے یہ بتا دیا تو تجھے پاخانہ پھرتے دوں گا ورنہ نہیں۔ اور تیرے باپ نے تو مجھے اجازت دے یہی دی ہے ، اس لئے خوب ماروں گا۔ ادھر بچے کو زور سے پاخانہ آرہا تھا، ادھر بار کی دھمکی تھی۔ اس نے ڈر کے مارنے رب بتا دیا کہ فلاں کو نہ میں فلاں جگہ میرے ماں باپ گڑھا کھود کر چیزیں دفن کیا کرتے ہیں ۔ اس پر اس نے اسے پاخانہ پھر نے دیا۔ اور لاکر باپ کے سپرد کر دیا۔ بچہ تو تھکا ہوا تھا آرام سے سو گیا اور نوکر کمرہ میں داخل ہو کر سب مال زیورہ نکال کر چلتا بنا۔ یسی کیفیت ایسے لوگوں کی ہوتی ہے جو اپنے اندر منافقت کی رگ رکھتے ہیں جب الگ ہوتے ہیں تو اس نوکر کی طرح جلاد بنتے ہیں اور جب دوسرے سامنے ہوں تو پوہلے منہ سے ایسی سادگی کی باتیں کرتے ہیں کہ رقیق القلب انسان کو ان کی مسکینی پر رونا آجاتا ہے۔ پس میں جماعت کو نصیحت کرتا ہوں کہ وہ اس خوشی کے حصول کی کوشش کر رہیں جو ذاتی قربانی سے حاصل ہوتی ہے ۔ اور یاد رکھیں کہ تبھی وہ اس خوشی کے مستحق ہوں گے جو ان کو آباد کی طرف سے ورثہ میں ملنے والی ہے۔ جب وہ خود بھی نیکی اور تقویٰ میں اعلیٰ مقام رکھنے کھنے والے اور مقام ہوں گے ۔ وہی بہادر جو میدانِ جنگ میں اپنی جان قربان کرنے کے لئے تیار رہے کہ سکتا ہے کہ یاد رکھو ئیں وہ بہادر ہوں جس کا باپ بھی ایسا بہادر تھا اور جس کا دادا بھی ایسا بہادر تھا اور یقینا اس کے اس اعلان سے رغب طاری ہوگا۔ مگر خیال تو کرو کہ ایک شخص ایک