خطبات محمود (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 571 of 772

خطبات محمود (جلد 17) — Page 571

خطبات محمود جلد نمبر ۱۷ ۵۶۲ سال ۱۹۳۶ء صرف یہ ہوتا ہے کہ فلاں فلاں نیکی کا حاصل کرنا ہمارے لئے ذرا دقت طلب سی بات ہے لیکن اس نیکی کے حصول میں ہم کو چند در چند سہولتیں ہیں اس لئے ہم اس کی طرف اپنی توجہ کو زیادہ مبذول کرتے ہیں۔ اسی اصول کے ماتحت جس قوم کو تعلیم سے دلچسپی ہوتی ہے وہ تعلیم کو اور جس قوم کو نظام سے دلچسپی ہوتی ہے وہ نظام ہے وہ نظام کو اپنا ما ٹو قرار دے لیتی ہے اور جس قوم کو مثلاً صحت سے دلچسپی ہے وہ ورزش کو اپنا ما ٹو قرار دے لے گی ۔ غرضیکہ جس جس کام سے کسی قوم کو دلچسپی ہوتی ہے وہ اسی کو اپنا ماٹو قرار دے کر اس کو اختیار کرنے کی حتی الوسع کوشش کرتی ہے اور اس کوشش کا یہ مطلب نہیں ہوتا کہ باقی کاموں سے اس قوم کو نفرت ہے بلکہ صرف یہ مطلب ہوتا ہے کہ اس کام کی طرف اس قوم کا زیادہ میلان ہے۔ اس لحاظ سے کوئی بھی اچھا ماٹو کوئی قوم رکھے وہ اُس کیلئے نیکی ہوگا ۔ اور بعض ماٹو ایسے بھی ہیں جو آپس میں اشتراک رکھتے ہیں مثلاً یہ ماٹو کہ خدا کی اطاعت کرو اور یہ ماٹو کہ نیکیوں میں ترقی کرو در حقیقت ایک ہی ہیں کیونکہ یہ دونوں باتیں لازم و ملزوم ہیں کیونکہ خدا کی اطاعت کے بغیر نیکیوں کا حصول محال ہے اور اسی طرح جو شخص نیک ہی نہیں وہ خدا تعالیٰ کا مطیع کس طرح ہو سکتا ہے۔ اسی طرح یہ ماٹو کہ میں دین کو دنیا پر مقدم رکھوں گا اور یہ ماٹو کہ ” میں نیکیوں میں سبقت لے جانے کی کوشش کروں گا “ دونوں گو ایک نہ ہوں مگر آپس میں بہت مشابہہ ہیں اور دونوں ایک حد تک ایک دوسرے کے اندر آ جاتے ہیں ۔ پس یہ ساری نیکیاں ہی اچھی ہیں اور ہم کو ان کے حصول کی طرف توجہ رکھنی چاہئے ۔ لیکن جب میں نے ماٹو کے بارہ میں یہ مضامین الفضل میں پڑھے تو مجھے ایک یہودی کا قصہ یاد آ گیا کہ ایک دفعہ ایک یہودی حضرت عمرؓ سے باتیں کر رہا تھا کہ دورانِ گفتگو میں کہنے لگا ہم تو آپ لوگوں سے سخت حسد رکھتے ہیں ۔ حضرت عمرؓ نے ان سے پوچھا کہ آپ کو ہم پر کس بات کا حسد آتا ہے؟ وہ یہودی کہنے لگا کہ مجھے اس بات کا حسد ہے کہ آپ کے اسلام میں یہ ایک خاص خوبی ہے کہ دنیا کی کوئی بات ایسی نہیں جس کے بارہ میں آپ کے اسلام کے اندرا حکام موجود نہ ہوں حتی کہ آپ کے اسلام نے تو پاخانہ اور پیشاب کرنے اور کھانا کھانے اور پانی پینے تک کیلئے بھی احکام بتلا دیئے ہیں کہ فلاں فلاں کام کرو تو اس طور پر کرو ، اسی طرح شادی بیاہ کے بارہ میں