خطبات محمود (جلد 17) — Page 570
خطبات محمود جلد نمبر ۱۷ کے نام سے تعبیر کیا جاتا ہے ہونا چاہئے ۔ ۵۶۱ میں دین کو دنیا پر مقدم رکھوں گا“ سال ۱۹۳۶ء بہر حال یہ ایک قدرتی امر ہے کہ ہر قوم کیلئے کوئی نہ کوئی مطمح نظر ضرور ہوتا ہے اور قدرتی طور پر سب قومیں اپنے اپنے ماٹو کو اپنے سامنے رکھتی ہیں اور اس سے فائدہ اُٹھاتی ہیں مطمح نظر کا اصول یہ ہے کہ جس غرض کیلئے کوئی قوم یا انجمن بنی ہے وہ قوم یا انجمن اس غرض اور مقصد کو ہر وقت اپنے سامنے رکھے۔ جس وقت فرانس کے بادشاہوں کے خلاف بغاوت ہوئی تو باغیوں کا مسح نظر یہ تھا کہ ہم نے حریت، مساوات اور اخوت کو حاصل کر کے رہنا ہے اور اس مضمون کے بور ڈلکھ لکھ کر انہوں نے مختلف مقامات پر لگا دیئے تھے اور اپنی تقریروں میں بھی وہ ان باتوں پر زور دیتے تھے اور بازاروں میں پھر پھر کر لوگوں کو اپنے اس مصلح نظر کی طرف توجہ دلاتے تھے ۔ انگلستان کی تاریخ سے بھی یہ بات صاف طور پر معلوم ہوتی ہے کہ جب بھی وہاں اختلاف پیدا ہوا تو جو قوم بھی اُٹھی ہے اس نے اپنے لئے ضرور کوئی نہ کوئی ماٹو تجویز کیا ہے جس کو وہ اپنے سامنے رکھتی تھی ۔ پس تمام سوسائٹیاں اور انجمنیں یہ بتانے کیلئے کہ ہم کو دوسری قوموں سے کیا امتیاز ہے اپنے لئے ایک خاص صحیح نظر تجویز کر لیتی ہیں ۔ کوئی انجمن یہ قرار دے لیتی ہے کہ اخلاق کی درستی مطمح اُن کے نزدیک سب سے بالا ہے، کوئی قوم یہ کہتی ہے کہ سب سے مقدم تعلیم کی ترقی ہے، کوئی سوسائٹی اپنا نصب العین یہ ٹھہرا لیتی ہے کہ ہم نے آزادی کو حاصل کرنا ہے اور اس کے بغیر ہماری یہ زندگی زندگی کہلانے کی مستحق ہی نہیں ۔ غرضیکہ کوئی انجمن سیاسی ہوتی ہے تو کوئی تعلیمی اور ہر ایک نے اپنے لئے کوئی نہ کوئی ماٹو تجویز کر رکھا ہوتا ہے اور وہ اس بات کا خاص طور پر خیال رکھتے ہیں کہ جس بات کیلئے ہماری جماعت قائم ہوئی ہے اس کو دنیا میں قائم کرنا ہے اور اس بات کو اپنی جماعت کے سامنے بھی ہر وقت موجود رکھنا ہے ۔ دنیا میں ہزاروں قسم کی نیکیاں ہیں اگر ہم ان میں سے ایک نیکی کو چن لیں تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ دوسری نیکیاں اس قابل نہیں کہ ان کے حصول کی کوشش کی جائے اور صرف یہ ایک نیکی جس کو ہم اختیار کرنے پر زور دے رہے ہیں اس قابل ہے کہ اس کو اختیار کیا جائے بلکہ مطلب