خطبات محمود (جلد 17) — Page 572
خطبات محمود جلد نمبر ۱۷ ۵۶۳ سال ۱۹۳۶ء بتلا دیا کہ اس طرح پر کرو غرضیکہ کوئی بات ایسی نہیں ہے جس کے بارہ میں اسلام کے اندرا حکام اور مسائل موجود نہ ہوں ۔ ہم کو آپ کے مذہب پر اس بات کا حسد ہے کہ یہ کس قدر وسیع مذہب ہے لیکن ہمارے مذہب میں یہ بات ہرگز موجود نہیں ۔ اس واقعہ کو مد نظر رکھو تو صاف معلوم ہوتا ہے کہ اسلام کی کسی ایک بات کو بطور ماٹو چننا درست نہیں ہو سکتا کیونکہ اس کی تو ہر بات ہی ایسی ہے جو ماٹو بنانے کے قابل ہے۔ پس فَاسْتَبِقُوا الْخَيْرَاتِ بھی ایک نہایت عمدہ ماٹو ہے اسی طرح یہ ماٹو کہ میں دین کو دنیا پر مقدم رکھوں گا بھی بہت عمدہ ہے اور اس کی طرف بھی قرآن مجید میں اشارہ موجود ہے اور وہ اس آیت میں ہے کہ بَلْ تُؤْثِرُونَ الْحَيَوةَ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةُ خَيْرٌ وَّ اَبقی ہے یعنی نادان لوگ دنیا کو دین پر مقدم کرتے ہیں حالانکہ آخرت یعنی دین کی زندگی کا نتیجہ دنیوی زندگی سے اعلیٰ اور دیر پا ہے۔ پس اسے دنیا پر مقدم رکھنا چاہئے بلکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ إِنَّ هَذَا لَفِي الصُّحُفِ الأولى صُحُفِ إِبْرَاهِيمَ وَمُوسَى - یہ تعلیم ہم آج نہیں دے رہے یہ تعلیم سب انبیاء دیتے چلے آئے ہیں چنانچہ موسیٰ اور ابراہیم کی وجیوں میں بھی اس پر زور دیا گیا تھا ۔ قرآن مجید کی اور بھی بہت سی آیات ہیں جو اس مضمون کو ادا کرتی ہیں ۔ پس یہ اعلیٰ تعلیم ہے لیکن سوال تو یہ ہے کہ قرآن مجید کی وہ کونسی تعلیم ہے جو ماٹو نہ بن سکے ۔ میں تو اس کے جس حکم پر نظر ڈالتا ہوں وہی جاذب توجہ نظر آتا ہے اور دل کو اپنی طرف کھینچتا ہے جیسے کسی شاعر نے کہا ہے کہ میں اپنے محبوب کے جس حصے پر نگاہ ڈالتا ہوں کرشمہ دامن دل می کشد که جا اینجاست یعنی محبوب کے چہرہ کا ہر حصہ کہتا ہے کہ بس خوبصورتی کا مقام اگر کوئی دنیا میں ہے تو یہی ہے بس تو یہیں ٹھہر جا۔ صلى الله اس تمہید کے بعد یہ بتانا چاہتا ہوں کہ قرآن مجید سے معلوم ہوتا ہے کہ آنحضرت ﷺ کی بعثت کا زمانہ ظَهَرَ الْفَسَادُ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ کا مصداق تھا۔ دنیا کی کوئی چیز ایسی نہ رہی تھی جس میں خرابی نہ آگئی ہو اور چونکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام آنحضرت ﷺ کے ظل اور بروز میں اس لئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا زمانہ بھی آنحضرت ﷺ کے زمانہ کامل ہے اور اس زمانہ میں الله بھی ہر قسم کی خرابیاں بدرجہ کمال پائی جاتی ہیں اس لئے آج مذہب کی بھی ضرورت ہے، اخلاق کی