خطبات محمود (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 59 of 346

خطبات محمود (جلد 14) — Page 59

خطبات محمود سال ۱۹۳۳ء کے برابر ہو گا ۔ اسی طرح ہم جھوٹے کو جھوٹا اس کے فعل کی شناخت کی وجہ سے کہتے ہیں، نہ اس وجہ سے کہ وہ کبھی سچ بولتا ہی نہیں یا بہت کم سچ بولتا ہے۔ اسی طرح بعض دفعہ کسی کو کذاب کہا جاتا ہے، تو اس کی وجہ بھی یہ ہوتی ہے کہ اس نے کوئی بڑا جھوٹ بولا ہوتا ہے۔ ورنہ کوئی انسان آج تک ایسا نہیں گزرا جس کے جھوٹ اس کے سچ سے زیادہ ہوں ۔حضرت آدم سے لے کر اس وقت تک جس قدر بھی جھوٹ بولنے والے ہوئے ہیں ، ان تمام کے جھوٹ کم ہیں اور سچ زیادہ۔ یہی حال چوری وغیرہ دوسرے عیوب کا ہے۔ اگر انسان کی بدیاں اس کی نیکیوں سے بڑھ جاتی ہیں تو یقینا اللہ تعالیٰ بنی نوع انسان کو مٹا دیتا اور دنیا میں قیامت آجاتی ۔ قرآن مجید صاف طور پر فرماتا ہے أَمَّا مَا يَنْفَعُ النَّاسَ فَيَمْكُثُ فِي الْأَرْضِ ہے جو چیز فائدہ رساں ہوتی ہے اسے ہی دنیا میں قائم رکھا جاتا ہے۔ اگر انسان نفع رساں نہ ہوتے اور اگر ان کی بدیاں نیکیوں سے زیادہ ہو جاتیں تو انہیں ہرگز دنیا میں نہ رکھا جاتا بلکہ تباہ کر دیا جاتا ۔ غرض اللہ تعالیٰ نے یقین کے اظہار کیلئے دنیا کو پیدا کیا ہے۔ مگر اس خالی دعوی میں تمام مذاہب شریک ہیں اور سب لوگ نیک نیتی سے اپنے آپ کو سچا سمجھتے ہیں۔ ان حالات میں کس طرح ہو سکتا تھا کہ اللہ تعالیٰ سچا اور جھوٹا یقین کرنے والوں میں فرق نہ کرے۔ اور بتائے نہیں کہ کس کا یقین سچا ہے اور کس کا جھوٹا۔ اسی کے اظہار کیلئے حقیقی اور غیر حقیقی یقین کرنے والوں میں فرق کرنے کیلئے اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندوں کو ایسے ابتلاؤں میں سے گزارتا ہے جن میں اس کا ایمان چمک اُٹھتا ہے۔ اور دنیا پر ظاہر ہو جاتا ہے کہ ابتلاؤں کی بھٹی ان کے ایمانوں کو اور زیادہ جلا دے دیتی ہے۔ جب ابتلاء آتے ہیں، مصائب کی آندھیاں اٹھتی ہیں ، حوادث کے پہاڑ گرتے ہیں، اُس وقت ایمان رکھنے والوں کے دل اللہ تعالیٰ کی محبت سے لبریز ہو جاتے اور ان کے ایمان از سر نو تازہ ہو جاتے ہیں۔ مگر دوسرے شخص گھبرا جاتے ہیں، وہ پریشان ہو جاتے ہیں اور ان کی پریشان خاطری ظاہر کر دیتی ہے کہ حقیقی استقامت ان کے دلوں میں موجود نہیں۔ پس ایمان تازہ کرنے کیلئے ضروری ہے کہ ابتلاؤں کا سلسلہ جاری رہے۔ اور جو شخص ان ابتلاؤں سے گھبراتا ہے وہ دنیا پر یہ ظاہر کرتا ہے کہ گویا اسے حقیقی ایمان نصیب نہیں ۔ پس یہ پہلا گر ہے جسے ہماری جماعت کو یا د رکھنا چاہئے ۔ دوسرا امر جس کی طرف میں اپنی جماعت کے دوستوں کو توجہ دلانا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ کبھی اللہ تعالٰی اپنی جماعت اور 57