خطبات محمود (جلد 14) — Page 58
خطبات محمود سال ۱۹۳۳ء انسان ہمیشہ کیلئے اپنے اور اپنے بیوی بچوں کے متعلق یہ دعا کرے کہ وہ ہر قسم کی بھلائیوں سے محروم ہو جائیں۔ میں نے کہا میں آپ کو بتا چکا ہوں کہ انسان دنیا کیلئے اپنے بیوی بچوں کی جان قربان کر سکتا ہے مگر جس چیز کو وہ قربان نہیں کر سکتا وہ یہ ہے کہ انہیں ہمیشہ کیلئے نقصان اور تباہی کے گڑھے میں گرادیا جائے ۔ وہ بعض دفعہ یہ سمجھ لیتا ہے کہ اگر میں ہلاک ہو گیا تو کیا۔ بعض دفعہ یہ خیال کر لیتا ہے کہ اگر میری اولاد نہ رہی تو اس میں کیا حرج ہے۔ مگر وہ اپنی نسل پر ابدی لعنت ڈالنے کیلئے تیار نہیں ہوگا ۔ وہ وقتی طور پر جانی اور مالی قربانی کر سکتا ہے اور عارضی طور پر اپنے آپ کو یا اپنی نسل کو مصائب و مشکلات کا نشانہ بنا سکتا ہے مگر وہ ہمیشہ کیلئے نیکی کا بیچ مٹانے کیلئے تیار نہیں ہوتا اور نہ کوئی سمجھدار انسان تیار ہو سکتا ہے۔ غرض میں جتنا زیادہ ان پر زوردوں 10 ، اتنا ہی وہ انکار کرتے چلے جائیں اور آخر بالکل لا جواب ہو گئے ۔ پس یقین ایک ایسی چیز ہے جو انسان کو ہر ایک قربانی پر آمادہ کر دیتی ہے۔ اور یقین ہی ہے جس کا ابتلاؤں کے ذریعہ اللہ تعالیٰ اظہار کرنا چاہتا ہے اور دکھانا چاہتا ہے کہ واقعی میرے مومن بندے اپنی صداقت پر کامل یقین رکھتے ہیں۔ ورنہ کون سی وہ قوم ہے جو یہ خیال نہیں کرتی کہ وہ سچائی پر قائم ہے۔ کیا کوئی ہندو اس لئے ہندو مذہب پر قائم ہوتا ہے کہ اسے اس کی صداقت پر شبہ ہوتا ہے، ہر گز نہیں ۔ اکثر ہندو خیال کرتے ہیں کہ ان کا مذہب سچا ہے یا کیا کوئی عیسائی عیسائیت پر اس لئے قائم ہوتا ہے کہ وہ اسے جھوٹا سمجھتا ہے ہر گز نہیں، اکثر عیسائی خیال کرتے ہیں کہ عیسائیت ہی سچائی کی حقیقی راہ ہے۔ یہی حال سکھوں کا ہے، یہی حال دوسری اقوام کا ہے۔ جس طرح مسلمانوں کو یقین ہے کہ ان کا مذہب سچا ہے اسی یہی حال دوسری اقوام کا ہے۔ جس طر مسلمانوں کو یقین۔ طرح ہندوؤں اور سکھوں کو بھی یقین ہے اور اسی طرح دوسری اقوام کو بھی یقین ہے۔ اور اسی سے اس امر کا ثبوت ملتا ہے کہ شریر دنیا میں کم ہیں۔ اور شریف زیادہ، اگر دنیا میں شریفوں کی کثرت نہ ہوتی تو انسانی پیدائش کی غرض باطل ہو جاتی۔ تم اگر ایک ڈاکو کے اعمال کو دیکھو گے تو ان میں بھی نیکی کا عنصر غالب دکھائی دے گا۔ لوگ بعض دفعہ کسی کو جھوٹا کہہ دیتے ہیں۔ حالانکہ اگر وہ گنے لگیں کہ یہ جھوٹ کتنی دفعہ بولتا ہے اور سچ کتنی دفعہ تو اس کے جھوٹ بہت کم ہوں گے اور سچ بہت زیادہ۔ ہم اگر ایسے شخص کو بُرا کہتے ہیں تو اس کے عیب دار ہونے کی وجہ سے، نہ اس وجہ سے کہ وہ کلیہ نیکیوں سے محروم ہو چکا ہے۔ ایک ریشمی گرتا میں چھوٹا سا سوراخ ہو جائے تو تمام گرتا عیب دار ہو جائے گا حالانکہ وہ سوراخ پیسہ 56