خطبات محمود (جلد 14) — Page 60
خطبات محمود سال ۱۹۳۳ء سلسلہ کو دوسروں کے ہاتھوں قائم نہیں کیا کرتا بلکہ ہمیشہ اپنے ہاتھ سے اسے بڑھاتا اور اپنے ہاتھ سے ہی اسے ترقی کی انتہائی منازل تک پہنچاتا ہے۔ یہ بات اللہ تعالیٰ کی غیرت اور اس کی شان کے خلاف ہے کہ وہ الہی سلسلہ کو دوسروں کے ہاتھ سے قائم کرے۔ جب بھی کوئی خدا کی جماعت دنیا میں قائم ہوئی ہمیشہ خدا کے ہاتھ سے قائم ہوئی۔ اور گو جزوی طور پر دوسرے لوگ بھی شریک ہو جاتے ہیں مگر حقیقی امداد اور نصرت اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سے آتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ رسول کریم صلی ا یہ تم کو اللہ تعالیٰ نے تمام حکومتوں سے آزاد جگہ پیدا کیا ۔ اگر رسول کریم صلی الی تم کسی منظم حکومت کے ماتحت ہوتے تو چاہے وہ حکومت دشمن بھی ہوتی ، پھر بھی دشمن کی حکومت ایک رنگ حفاظت کا اپنی رعایا کو ضرور دیتی ہے۔ مثلا یہی کہ ایسی حکومت میں بھی ہر شخص ایذاء پہنچانے کا مجاز نہیں ہو سکتا۔ بلکہ اگر حکومت دشمن ہو تو وہ یہی چاہے گی کہ میں خود سزا دوں ، یہ نہیں کہ خالد بکر جو اُٹھے فساد برپا کرنا شروع کر دے۔ اس طرح حکومت کی تنظیم میں فرق پیدا ہوتا ہے اور وہ اس کی اجازت نہیں دے سکتی ۔ مثلاً افغانستان میں ہی ہمارے بعض احمدی بھائی سنگسار کئے گئے مگر حکومت نے یہ فعل خود کیا دوسروں نے نہیں۔ پس باوجود اُس کے کہ اُس وقت کی حکومت افغانستان کا فعل نہایت ہی ظالمانہ اور عدل و انصاف کے خلاف تھا، پھر بھی اس نے اس حد تک کیا کہ ظلم بھی اپنے ہاتھ سے کیا دوسروں کے ذریعہ نہیں لیکن رسول کریم صلی ایام کو جو آخری ہدایت نامہ دے کر بھیجا گیا، اللہ تعالیٰ نے چاہا کہ وہ کامل طور پر اسی کی تائید و نصرت سے پھیلے، انسانی ہاتھ کا اس میں دخل نہ ہو ۔ تب اللہ تعالیٰ نے آپ کو ایک ایسے ملک میں پیدا کیا جس میں کوئی بھی حکومت الے ملک میں پیدا کیا جس میں کوئی بھی کا نہ تھی ۔ اس میں شبہ نہیں کہ عرب کے لوگ آپس میں بعض موقعوں پر مشورہ کر لیا کرتے تھے مگر کوئی ایسا قانون نہ تھا جس میں افراد، افراد کو نقصان پہنچا سکتے ہوں۔ بیشک ان میں یہ قانون تھا کہ لڑائی سے پہلے فلاں شخص کے پاس روپیہ جمع کرا دیا جائے یا مثلاً یہ قانون تھا کہ جھنڈا فلاں شخص اُٹھائے مگر ایسا کوئی قانون نہ تھا کہ اگر کوئی کسی کو قتل کرنا چاہے تو وہ نہ کر سکے۔ پس گوان میں تنظیم کا ایک رنگ تھا مگر افراد کی آزادی پر حد بندی کیلئے نہیں بلکہ اپنے شہر یا قبائل کی حفاظت کیلئے ۔ ایسے ملک میں رسول کریم صلی ای سالم کے لے دعوی نبوت کرنے کے یہ معنے تھے کہ آپ کی جان کی اُس وقت کوئی بھی قیمت نہ تھی۔ اور اگر کوئی شخص نقصان پہنچانا چاہتا تو اُسے اُس کے ارادہ سے کوئی شخص نہ روک سکتا تھا۔ لیکن اللہ تعالیٰ بتلانا 58