خطبات محمود (جلد 14) — Page 296
خطبات محمود سال ۱۹۳۳ء اللہ تعالیٰ سے ملنے کی خواہش کے جس بات سے آپ کی زندگی کی آخری گھڑیاں تکلیف میں گزریں وہ یہی تھی کہ کہیں میری امت شرک میں گرفتار نہ ہو جائے ۔ پس اس میں رسول کریم صلی اسلام کی عظمت نہ ہوگی ۔ اگر ہم اس رنگ میں آپ سے محبت کا اظہار کریں جس میں مشرکانہ رنگ پایا جاتا ہو۔ بلکہ میں سمجھتا ہوں رسول کریم صلی لا الہ سلم کی نگاہ میں ابو جہل کے تمام مظالم اور وہ ایذائیں جو اس نے آپ کو دیں ، آپ کا گلا گھونٹا آپ پر گند پھینکا اور آپ کو ہر رنگ میں مشکلات و مصائب میں مبتلا کیا حقیر ہوں گی اس امر کے مقابلہ میں کہ آپ کی ذات کے متعلق کسی قسم کا شرک کیا جائے۔ مگر میں نے دیکھا ہے یہاں جو جلوس نکلتا ہے اس میں بعض قطعات پر لکھا ہوتا ہے۔ یا محمد ۔ حالانکہ رسول کریم صلی السلام وفات پاچکے۔ اور اب وہ دنیا میں واپس نہیں آسکتے۔ پس یا محمد کہنا ہرگز جائز نہیں ۔ ہاں بعض دفعہ کشفی طور پر ایک انسان رسول کریم مالی اسلام کو اس طرح مخاطب کرتا ہے تو وہ روحانی کیف ہے جو ہر شخص کو میسر نہیں آتا۔ مگر جب کوئی شخص اس کیف سے خالی ہو کر یا محمد کہتا ہے تو وہ نقل کرتا اور مشرکانہ رنگ اختیار کرتا ہے۔اسی طرح میں نے دیکھا ہے کہ کچھ تختے ہوتے ہیں ان پر بھی یا مُحَمَّدُ يَا مُحَمَّد لکھا ہوتا ہے۔ بھلا یا مُحَمَّد کہنے سے کیا رسول کریم صلی ایام تشریف لے آئیں گے ۔ اگر تم یا اللہ کہو تو یہ بات بھی ہے۔ کیونکہ تمہارا خدا ہر وقت تمہارے پاس ہے۔ لیکن اگر تم یا محمد کہتے ہو تو یہ فضول بات ہے۔ رسول کریم مال لا السلام فوت ہو چکے اور جیسا کہ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے کہا تھا جو محمد علیہ السلام کی عبادت کرتا تھا، وہ سمجھ لے کہ آپ فوت ہو گئے اور جو خدا کی عبادت کرتا تھا وہ جان لے کہ خدا زندہ ہے سے۔ اسی طرح جو شخص خدا کا پرستار ہے وہ تو یا اللہ ہی کہے گا۔ یا محمد کبھی نہیں کہے گا۔ کیونکہ جس چیز کو بھی ہم بغیر کسی خاص کیفیت کے یا کہہ کر مخاطب کریں بے فائدہ اور لغو بات ہے۔ ہاں کیفیت کی حالت میں ہم کہہ سکتے ہیں۔ اور وہ ایسا وقت ہوتا ہے کہ تنہائی کی گھڑیاں ہوتی ہیں اور قوت متخیلہ کام کر رہی ہوتی ہے۔ اس رنگ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بھی اپنے اشعار میں بعض جگہ رسول کریم ملایا کہ تم کو مخاطب کیا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ روحانی طور پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے رسول کریم صلی السلام کا قرب اس قدر محسوس کیا کہ گویا آپ کو سامنے نظر آگئے۔ اور اس کشفی حالت کے لحاظ سے آپ نے یا نبی اللہ وغیرہ الفاظ کہہ دیئے ۔ مگر کون بیوقوف شخص یہ خیال کر سکتا ہے 294