خطبات محمود (جلد 14) — Page 297
خطبات محمود سال ۱۹۳۳ء کہ وہ لڑ کے جو جلوس میں شامل ہوتے اور اشعار پڑھ رہے ہوتے ہیں وہ ایسے روحانی مقام پر اس وقت فائز ہوتے ہیں کہ رسول کریم صلی السلام کا انہیں انتہائی قرب حاصل ہوتا ہے۔ اور وہ بے اختیار یا محمد یا محمد ﷺ کہہ رہے ہوتے ہیں۔ صاف ظاہر ہے کہ یہ تصنع ہے بناوٹ ہے اور کچھ نہیں ۔ وہ کیفیت جس میں پیدا ہو وہ بے شک کہہ لے۔ مگر کیا جس میں یہ کیفیت پیدا ہو وہ لوگوں سے پوچھا کرتا ہے کہ میں کہوں یا نہیں۔ اس کے منہ سے تو آپ ہی بات نکل جاتی ہے۔ ایسی کیفیت خلوتوں اور تنہائی کی گھڑیوں میں بعض خاص لوگوں پر طاری ہوتی ہے، جلوسوں میں نہیں آسکتی ۔ پھر جب یہ کیفیت آتی ہے تو تصنع نہیں ہوتا یہ کیفیت جب جلوس میں بھی طاری ہو تو کشفی حالت ہی ہوگی ۔ پس ایسے تمام اشعار جن میں خدا تعالیٰ کی توحید کے خلاف باتیں پائی جاتی ہوں ، ان کے پڑھنے میں رسول کریم صلی السلام کی عزت نہیں بلکہ اس سے بڑھ کر آپ کی کوئی ہتک نہیں ہو سکتی۔ گویا آپ کا مقصد توحید پرستی نہیں تھی بلکہ نعوذ بالله آپ نے لوگوں سے حضرت عیسیٰ کی پرستش کی بجائے اپنی پرستش شروع کرا دی اور یہ ایک نہایت ہی نا معقول اور رسول کریم صلی ای یتیم کی ہتک کرنے والی بات ہے۔ مگر باوجود اس کے کہ میں نے کئی بار سمجھا یا پھر بھی یہ بیہودگی نظر آجاتی ہے اور ہمیشہ سے جلوس میں ایسے تختے نظروں کے سامنے آتے رہتے ہیں جن پر یا محمد" لکھا ہوتا ہے۔ نہ معلوم جو منتظم ہیں وہ قرآن مجید اور سلسلہ کے لٹریچر کو نہیں پڑھتے ۔ اور اس اس ام امر کو بھی نہیں سمجھتے کہ رسول کریم صلی اسلام کی بعثت کی غرض کیا تھی ۔ یا نہ معلوم کیا بات ہے کہ وہ اس طرف توجہ نہیں کرتے کیسے اچھے شعر ہیں جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فارسی ، اردو اور عربی میں رسول کریم صلی السلم کی شان میں کہے ہیں ۔ انہیں سن کر کوئی انسان رسول کریم صلی علیہ السلام کی تعریف کئے بغیر نہیں رہ سکتا۔ وہ اشعار لڑکوں سے پڑھاؤ۔ حضرت مسیح موعود کی نظمیں انہیں یاد کراؤ۔ یہ کیا کہ یا محمد یا محمد کہنا شروع کر دیا۔ تم یا محمد ہزار سال کہتے رہو۔ رسول کریم صلی ال تیم فوت ہو چکے، اب وہ دنیا میں نہیں آ سکتے ۔ تم یا محمد کی بجائے اللہ تعالیٰ کو مخاطب کرو جو تمہاری رگِ جان سے بھی زیادہ قریب ہے اور تم ابھی پوری بات بھی نہیں کہہ چکے ہو گے کہ وہ تمہارے قریب آ جائے گا۔ وہ خود کہتا ہے۔ إِنِّي قَرِيبٌ أُجِيبُ اجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ " میں قریب ہوں اور پکارنے والے کی پکار کا میں جواب دیتا ہوں ۔ مگر جو 295