خطبات محمود (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 295 of 346

خطبات محمود (جلد 14) — Page 295

خطبات محمود سال ۱۹۳۳ء مجھے ہمیشہ ہی حیرت ہوئی ہے کہ قادیان کے لوگ اس کی طرف توجہ نہیں کرتے وہ یہ ہے کہ ایسے الفاظ استعمال نہیں کرنے چاہئیں جن سے اللہ تعالیٰ کی وحدانیت پر حملہ ہوتا ہے۔ ہمیں بیشک رسول کریم مالی ایلام سے محبت ہے۔ عشق ہے مگر باوجود اس کے ہم اللہ تعالیٰ کی توحید کو صدمہ نہیں پہنچا سکتے ۔ اور اگر ہم پہنچائیں تو یہ رسول کریم صلی ا ہم سے دشمنی ہوگی ۔ وہ چیز جس نے رسول کریم صلی السلام کی آخری گھڑیوں کو تکلیف دہ بنا دیا وہ یہی تھی۔ ورنہ آپ نے فرمایا تھا خدا تعالیٰ کا ایک بندہ تھا۔اس سے خدا نے پوچھا تم دنیا میں رہنا چاہتے ہو یا ہمارے پاس آنا چاہتے ہو۔ تو اس نے کہا اے خدا میں تیرے پاس آنا چاہتا ہوں۔ اب تو مجھے اپنے پاس بلائے۔ یہ رسول کریم ملا ہم نے اپنا حال بیان فرمایا تھا جس میں جب آپ نے یہ بات ہی مجلس ما آپ بیان فرمائی تو لوگوں نے سمجھا کہ آپ نے ایک مثال سنائی ہے۔ شاید یہودیوں میں کوئی شخص ایسا گزرا ہو یا عیسائیوں میں ۔ مگر حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ یہ بات سن کر رو پڑے۔ ایک صحابی کہتے ہیں لوگوں نے حضرت ابوبکر کی طرف دیکھنا شروع کیا اور کہا اس بڑھے کو کیا ہو گیا۔ کسی بندہ سے کہا گیا تھا کہ تو دنیا میں رہنا چاہتا ہے یا خدا کے پاس آنا چاہتا ہے اور اس نے کہا میں خدا کے پاس آنا چاہتا ہوں ۔ اس سے اس کا کیا بگڑا کہ یہ رونے لگ گیا۔ مگر دراصل رسول کریم صلی ا لی ایم نے اپنا حال بتایا تھا۔ اور خبر دی تھی کہ اب آپ دنیا میں زیادہ دیر نہیں رہیں گے۔ اس وجہ سے حضرت ابوبکر رو پڑے۔ جب رسول کریم صلی ا کہ ہم نے آپ کی نہ تھمنے والی رقت کو دیکھا تو فرمایا ابوبکر کا مجھ سے اس قدر تعلق ہے کہ اگر خدا تعالیٰ کے سوا میں کسی کو خلیل بناتا تو ابوبکر کو بناتا۔ پھر فرما یا مسجد میں جس قدر کھڑکیاں کھلتی ہیں ، ان میں سے سوائے ابوبکر" کی کھڑکی کے باقی سب بند کر دی جائیں لے ۔ اس واقعہ سے معلوم ہو سکتا ہے کہ رسول کریم صلی ای ایم کی اپنی خواہش تھی کہ اللہ تعالیٰ آپ کو بلا لے۔ اور گو بظاہر کام پورا نہیں ہوا تھا۔ اور حضرت عمر جیسے انسان نے بھی آپ کی وفات پر کہہ دیا تھا کہ آپ پھر واپس آئیں گے ۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ظاہری نظروں میں کامل طور پر اشاعت اسلام کا کام نہیں ہوا تھا۔ مگر باوجود اس کے رسول کریم صلی ا کہ تم نے سمجھا جتنا کام آپ نے کرنا تھا، وہ کر چکے۔ اور آپ کی خواہش ہے کہ اب اللہ تعالیٰ کے پاس چلے جائیں۔ لیکن حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا روایت کرتی ہیں کہ رسول کریم صلی ا یہ تم کو مرض الموت میں سخت تکلیف ہوئی۔ آپ بار بار فرماتے اللہ تعالیٰ یہود و نصاری پر لعنت کرے کہ انہوں نے اپنے نبیوں کی قبروں کو سجدہ گاہ بنالیا ہے ۔ گویا با وجود 293