خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 309 of 671

خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 309

خطابات شوری جلد اول ۳۰۹ مجلس مشاورت ۱۹۲۸ء اختتامی تقریر مجلس مشاورت کی کارروائی مکمل ہونے کے بعد اختتامی تقریر میں حضور نے احباب کو نصائح کرتے ہوئے فرمایا :- دو چونکہ احباب نے آج واپس جانا ہے اور وقت تنگ ہو رہا ہے اس لئے باقی ایجنڈا رہنے دیتے ہیں۔ تاکید کرتا ہوں کہ آئندہ ایجنڈا اس طرح سے تیار کیا جائے کہ مقررہ اوقات میں ختم ہو سکے اور ایسی حالت نہ ہو کہ چلتی دفعہ دوستوں کو رخصت کرنے کا بھی وقت نہ ملے اور بالکل آخری وقت میں اُن کو فارغ کیا جا سکے ۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا طریق تھا کہ جب آپ مجلس میں بیٹھتے تو استغفار پڑھا کرتے تھے اور استغفار کیوں پڑھتے تھے حدیث میں آتا ہے۔ یہ دفعہ استغفار پڑھتے تھے کے اس کی غرض وہ نہ ہوتی تھی جو سُوءِ ادبی سے لوگ بیان کرتے ہیں کہ آپ کے دل پر مجلس میں بیٹھنے سے زنگ لگتا تھا اسے دور کرنے کے لئے استغفار پڑھتے تھے۔ جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ میرا شیطان مسلمان ہو گیا ہے ؟ تو پھر آپ کے دل پر زنگ لگانے والا کون ہو سکتا تھا۔ لیکن یہ صحیح ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے زنگ کا ذکر فرمایا ہے مگر یہ نہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دل پر زنگ لگتا تھا بلکہ اس لئے پڑھتے تھے کہ دوسروں کے دلوں پر زنگ نہ لگے اور خدا تعالیٰ انھیں اس سے بچالے اور دوسرے لوگ اس لئے پڑھتے تھے کہ وہ اس زنگ سے بچ جائیں ۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مجلس میں بیٹھنے اور زنگ کا کیا تعلق ہے ۔ اس موقع پر یا اُس موقع پر جب خلفاء بیٹھے ہوں کئی باتیں ایسی پیدا ہو سکتی ہیں کہ لوگوں کے دلوں پر زنگ لگا دیں ۔ قرآن کریم میں حکم ہے کہ ایسی آواز سے نہ بولو کہ رسول سے سُوءِ ادبی ہو۔ اور وہ بات جو رسول کے لئے ہو خلفاء بھی اس کے حصہ دار ہیں ۔ اب اگر کوئی کسی اور مجلس میں بے جا زور اور مندی سے بولتا ہے تو اس کے متعلق کہیں گے، بے ادب ہے۔ لیکن اگر رسول یا خلیفہ کی مجلس میں اس طرح کلام کرتا ہے تو نہ صرف آداب مجلس کے خلاف کرتا ہے بلکہ گناہ کا بھی مرتکب ہوتا ہے۔