خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 310
خطابات شوری جلد اول ۳۱۰ مجلس مشاورت ۱۹۲۸ء مجلس مشاورت کا وقار پس احباب کو اس بات کی عادت ڈالنی چاہیئے کہ اس مجلس مشاورت میں زیادہ وقار اور خشیت اللہ سے بات کریں مگر دیکھا گیا ہے بعض لوگوں نے یہ مد نظر نہیں رکھا کہ میں فیصلہ کر چکا ہوں اور کئی نے کہا ہے کہ فلاں فیصلہ میں ترمیم کی ضرورت ہے۔ یہ تو دنیوی حکومتوں میں بھی ہوتا ہے کہ جو فیصلہ پریذیڈنٹ کر دے پھر اُس کے خلاف نہیں کہا جاتا حالانکہ اُن لوگوں کو پریذیڈنٹ سے کوئی اخلاص نہیں ہوتا، کوئی مذہبی تعلق نہیں ہوتا بلکہ بعض اوقات دل میں اُسے پاجی کہہ رہے ہوتے ہیں مگر اُس کے فیصلہ کا لحاظ رکھتے ہیں ۔ ہماری جماعت کے لوگ اخلاص رکھتے ہیں مگر آداب مجلس سے واقف نہ ہونے کی وجہ سے اس قسم کی باتیں ان سے سرزد ہو جاتی ہیں ۔ پچھلی دفعہ کی مجلس مشاورت میں ایسا نہیں ہو اگر اب کے محسوس کیا گیا ہے کہ بعض نے مجھے بھی ناظروں میں سے ایک ناظر سمجھا ہے حالانکہ خلیفہ کسی پارٹی کا نہیں ہوتا بلکہ سب کا ہوتا ہے اور سب سے اُس کا یکساں تعلق ہوتا ہے ۔ اسے کسی محکمہ سے تعلق نہیں ہوتا بلکہ سب سے اور سب افراد سے تعلق ہوتا ہے اس لئے ان باتوں میں شریعت کے آداب کو مد نظر رکھنا چاہئے ۔ ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے عورتوں میں وعظ کا سلسلہ شروع کیا مگر ان کی مجلس میں شور ہوا تو آپ نے فرمایا اب ہم وعظ نہیں کریں گے کیونکہ عورتوں نے ادب ملحوظ نہیں رکھا ۔ پس خلافت کے آداب اور مجلس کے آداب مد نظر رکھنے چاہئیں ۔ اسلامی مساوات کیا ہے؟ یہ اسلامی مساوات نہیں کہ آداب ملحوظ نہ رکھے جائیں۔ اسلام نے جہاں مساوات رکھی ہے وہاں یہ بھی حکم دیا ہے ۔ ہے۔ يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَقُولُوا رَاعِنَا وَقُولُوا انْظُرْنَا وَاسْمَعُوان اور پھر فرمایا: يايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لا تَرْفَعُوا أَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِيِّ وَلَا تَجْهَرُوا لَهُ بِالْقَوْلِ كَجَهْرِ بَعْضِكُمْ لِبَعْضٍ أَن تَحْبَطَ أَعْمَالُكُمْ وَأَنْتُمْ لَا تشْعُرُونَ الے یہ مساوات کے خلاف احکام نہیں ۔ اسلام جہاں مساوات سکھاتا ہے وہاں تقوی سے باہر نہیں نکالتا۔ پس ان باتوں کو مد نظر رکھنا چاہئے اور آداب مجلس کے خلاف کوئی بات نہ کرنی چاہئے ۔ دیکھو اگر ایک شخص بول رہا ہو اور دوسرا بھی بولنا شروع کر دے اور کہے یہ مساوات ہے جس پر عمل کر رہا ہوں اور اگر مجلس کے سارے لوگ اسی مساوات پر عمل