خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 308
خطابات شوری جلد اول ۳۰۸ مجلس مشاورت ۱۹۲۸ء خلیفہ کے اخراجات کے متعلق میں پہلے فیصلہ کر چکا ہوں کہ خلیفہ کے لئے رقم مقرر کرنے میں خلیفہ کا دخل نہیں ہو گا مگر جب اخراجات مجلس مقرر کر دے تو پھر مجلس ان اخراجات میں کمی کرنے کے متعلق کوئی بحث نہیں کر سکتی۔ یہ میں نے شریعت اسلامیہ کے مطابق قرار دیا ہے۔ بے شک اخراجات کے مقرر کرنے کے وقت مجلس غور کرے آگے یہ کہ میں خود وہ اخراجات لوں یا انجمن کو دے دوں یا کسی اور کو دوں اس کے متعلق اُس وقت تک کہ اخراجات میں زیادتی کی ضرورت پائی جائے یا نئی خلافت کے وقت رقم کی تعیین کی ضرورت ہو اور کوئی دخل نہیں دیا جا سکتا ۔ قرضہ کے ادا کرنے کے متعلق مرزا احمد بیگ صاحب نے جو شکایت کی ہے اس کے متعلق ذاتی طور پر مجھے معلوم ہے کہ وہ غلط ہے۔ بات یہ ہے کہ جن کو سب سے بڑی شکایت ہے وہ میرے پاس آئے اور قرضہ کے ادا کرنے کے متعلق ذکر کیا۔ میں نے کہا پچھلا قرضہ میں ابھی ادا کرا سکتا ہوں لیکن لین دین کا تجارتی تعلق ایسا ہے کہ اس میں آگے پیچھے ادائیگی ہو جاتی ہے۔ آئندہ اگر آپ لین دین کریں گے تو پھر میں دخل نہ دوں گا۔ میں نے بذریعہ تار ولایت سے روپیہ منگا کر انھیں دلایا مگر پھر انھوں نے لین دین کیا اور اب پھر شکایت کرتے ہیں ۔ میں اگر اس طرح تجارت کے معاملہ میں بار بار دخل دوں تو وہ تباہ ہو جائے گی ۔ تاجر آپس میں لین دین کرتے ہیں اگر کسی وقت کوئی رقم ادا کرنے میں دیر ہو جائے تو یہ ایسی بات نہیں جو ذلت کا موجب ہو۔ کتنے لوگ ہیں جو کہہ سکتے ہیں کہ ان کا قرض ہمیشہ وقت پر ادا ہو جاتا ہے ۔ کوئی تاجر ایسا نہیں جس نے قرض لیا ہو اور وقت پر ادانہ کرنے پر کبھی مجبور نہ ہوا ہو۔ قابلِ اعتراض بات یہ ہے کہ وہ رو پید ادا کرنے سے انکار کر دے یا اور جگہ تو دے مگر اس جگہ نہ دے ۔ یہ بد دیانتی ہے مگر اسے بد دیانتی نہیں کہا جا سکتا کہ کوئی مشکل پیش آگئی اور اس وجہ سے رو پید ادا نہ کیا جا سکا۔ میں نے روپیہ لے کر انھیں دے دیا تا کہ وہ مشکلات سے بچیں اور کہہ دیا آئندہ آپ معاملہ کرنے میں خود ذمہ دار ہوں گے ۔ چونکہ اس میں ان کا اپنا فائدہ تھا اس لئے انہوں نے میرے کہنے کے خلاف لین دین کیا اور پھر مجھ سے شکایت کی اب انھیں چاہئے ۔ اس معاملہ کو دفتر قضاء میں پیش کریں ۔ 66