خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 307 of 671

خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 307

خطابات شوری جلد اول ۳۰۷ مجلس مشاورت ۱۹۲۸ء نظارت کا ہونا چاہئے تا یہ نہ سمجھا جائے کہ یہ سارا خرچ ناظر کے لئے ہوتا ہے۔ میں نے پیر صاحب کے الفاظ کی جو تشریح کی ہے اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ اُنھیں الفاظ بولتے وقت احتیاط نہیں کرنی چاہئے ۔ بعض دفعہ ایسا بھی ہوتا ہے کہ صیح الفاظ کا بھی غلط مفہوم سمجھا جاتا ہے مگر اپنی طرف سے احتیاط کرنی چاہئے تا کہ کسی کو کسی قسم کا شبہ پیدا نہ ہو۔ اُن کے کے ایمان پر تو حرف نہیں آتا لیکن یہ ہو سکتا ہے کہ کمزور ایمان والوں کو غلطی لگ جائے ۔ اسی طرح صیغہ تجارت کی آمد و خرچ کو بھی بجٹ میں شامل کر لینا چاہئے ۔ ماسٹر مبارک اسماعیل صاحب نے کہا ہے کہ بجٹ کی کاپی ابھی ملی ہے اور اس میں تفصیل بھی نہیں ہے اس پر غور کس طرح کیا جا سکتا ہے۔ پہلے فیصلہ ہوا تھا کہ بجٹ میں تفصیل دی جائے مگر اب کے بھی تفصیل نہیں دی گئی۔ میرے نزدیک یہ بھی ضروری ہے کہ بجٹ کی تفصیل دی جائے اور نمائندوں کو آتے ہی بجٹ مل جانا چاہئے تا کہ وہ اس پر غور کر سکیں۔ پھر کہا گیا ہے بک ڈپو کی آمد سے سلسلہ کو حصہ ملنا چاہئے ۔ جب دوسرے حصہ داروں کو منافع ملتا ہے تو کیا وجہ ہے سلسلہ جو اخراجات کرتا ہے اُن کی وجہ سے اسے نہ ملے۔ اگر نہیں ملتا تو اس کی وجہ بتانی چاہئے تھی ۔ چودھری صادق علی صاحب نے بیان کیا ہے کہ بجٹ پر یہ نہیں لکھا ہوا کہ کب سے کب تک کا ہے۔ بات تو معمولی ہے مگر اس سے یہ اثر ضرور پڑتا ہے کہ بے احتیاطی سے کام لیا گیا ہے ۔ آئندہ پوری احتیاط کرنی چاہئے ۔ ۔ انسپکٹروں کے تقرر کے متعلق بعض کی رائے ہے کہ ان کو ہٹا دیا جائے اور بعض کہتے ہیں ان کا تقرر مفید ہے۔ یہاں ناظروں کی بھی رائے یہی ہے کہ یہ طریق مفید نہیں ہے ۔ میں ابھی اس کے متعلق کچھ نہیں کہہ سکتا ۔ تحقیق کر کے دیکھوں گا اگر نقص ہوگا تو ہٹا دیا جائے ہوگا تو ہے گا یا اگر جماعت کہے کہ ہم کام کر رہے ہیں اس لئے انسپکٹروں کی ضرورت نہیں ہے اس پر بھی ان کو ہٹا دیا جائے گا۔ یہ بھی ضروری بات ہے کہ قرضِ حسنہ کی صحیح تعداد دکھائی جائے ۔ دکھائی تو گئی ہے مگر جس ہے حسنہ کی ۔ تو طرح سارے بجٹ کا خلاصہ کی وجہ سے حشر ہوا اسی طرح قرضِ حسنہ بھی خلاصہ کی نذر ہو گیا۔