خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 298
خطابات شوری جلد اول ۲۹۸ مجلس مشاورت ۱۹۲۸ء گفتگو ہے جو ۱۹۲۴ء میں پیش کی گئی تھیں سب باتوں پر اس وقت گفتگو نہیں ہو سکتی ۔ ہو سکتا ہے جو کمیٹی بنے وہ مختلف طریق امداد دینے کے اختیار کرے۔ اس وقت سوال یہ ہے کہ جو لوگ امدادی سرمایہ میں حصہ ڈالیں وہی اس سے بطور قرض روپیہ حاصل کریں اور یہ اچھا طریق ہے اسی کو مد نظر رکھ کر یہ تجویز پیش کی گئی ہے اب یہ طے کرنا ہے کہ نظارت تجارت کی طرف سے کوئی ایسی انجمن بنائی جائے یا نہ ۔“ حضور کے اس وضاحتی ارشاد کے بعد جب دیگر ممبران اپنے خیالات کا اظہار کر چکے تو آپ نے فرمایا :- جن آدمیوں کو پہلے بولنے کی اجازت دی گئی تھی وہ تو بول چکے ہیں اور میں دیکھتا ہوں احباب اس معاملہ کی اہمیت کو محسوس کر رہے ہیں مگر اس سے بھی زیادہ اس کی اہمیت ہے جو اس وقت تک محسوس کی گئی ہے۔ اس بارے میں کوئی انتظام نہ ہونے کی وجہ سے طبائع پر بہت بوجھ پڑ رہا ہے اس لئے ضروری ہے کہ جلد سے جلد اس کے متعلق کام کیا جائے ۔ کوئی نہ کوئی راہ ضرور نکالنی چاہئے ۔ خصوصاً تاجروں اور ایسے لوگوں کے لئے جن کی جائدادیں ہیں مگر نقد سرمایہ اُن کے پاس نہیں ہے، جو صاحب جائداد نہیں اُن کے لئے تو شریعت نے یہ راہ کھولی ہے کہ وہ زکوۃ سے روپیہ لے سکتا ہے مگر صاحب جائداد ایسا نہیں کر سکتا اس لئے اس کے لئے زیادہ مشکلات ہیں ۔ ایسے لوگوں کے لئے کوئی راہ نکالنی چاہئے ۔ ۱۹۲۴ء کی مجلس مشاورت میں بھی یہ بات رکھی گئی تھی مگر اُس وقت اس پر غور کرنے کا موقع نہ ملا۔ میں اس مجلس شوری کو کامیاب سمجھ لوں گا اگر اس سال صرف اسی امر کا فیصلہ کر لیا جائے ۔ اسی طرح نہ صرف مالی لحاظ سے بلکہ سیاسی لحاظ سے بھی ہماری جماعت کی اہمیت اور قدر بہت بڑھ جائے گی کہ ہم نے ایسے مشکلات کے حل کی راہ نکال لی ۔“ نظارت امور عامہ کی اس تجویز پر بحث مکمل ہونے کے بعد حضور نے فرمایا کہ:- جو دوست اس تجویز کی تائید میں ہوں کہ کو آپر ٹیو طریق پر سوسائٹی بنائی جائے جو حصہ داروں کو قرض دے وہ کھڑے ہو جائیں ۔“ 66 اس پر ۱۴۵ ممبران کھڑے ہوئے صرف ایک رائے مخالف تھی ۔ چنانچہ حضور نے اس ۔