خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 297
خطابات شوری جلد اول ۲۹۷ مجلس مشاورت ۱۹۲۸ء 6 ہیں ۔ ” الفضل نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا ایک خط شائع کیا ہے اُس میں بھی ذکر ہے کہ تجارتی کاروبار کے لئے سود لیا جا سکتا ہے مگر اسے دینی کاموں کے لئے خرچ کیا جائے اپنی ذات پر نہ کیا جائے۔ مجھے معلوم ہوا ہے حضرت خلیفہ اسیح ثانی ایدہ اللہ نے بھی اس کی اجازت دی ہے کہ کو آپریٹو سوسائٹیوں سے قرض لیا جا سکتا ہے پس خالص احمدی کو آپریٹو سوسائٹیاں بن جانی چاہئیں ۔“ 66 حضور نے فرمایا: چونکہ شیخ صاحب نے ایک فتوے کا ذکر کیا ہے اس لئے میں یہ کہہ دینا چاہتا ہوں کہ اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہر شخص کو کو آپریٹو سوسائٹیوں میں داخل ہو جانا چاہئے اور سودی قرضہ لینا شروع کر دینا چاہئے بلکہ یہ ہے کہ جو شخص سود کے نیچے دبا ہوا ہو دوسری جگہ بہت زیادہ سود دے رہا ہو وہ ایسی سوسائٹیوں میں شامل ہو جائے کیونکہ جو دوسری جگہ ۵ فیصدی سود دیتا ہے وہ اگر دوسری جگہ دو فیصدی سود دے کر روپیہ حاصل کر سکے تو اس کے متعلق امید کی جاسکتی ہے کہ قرض کے بار کے نیچے سے نکل سکے ۔ ایسے لوگوں کو قرض لے لینا چاہئے نہ یہ کہ جسے ضرورت پیش آئے وہ کو آپریٹو سوسائٹی میں جائے اور سود پر قرض “لے لے۔ وو خان بہادر ڈاکٹر عبدالعزیز صاحب : - نظارت تجارت کی تجویز میں یہ رکھا گیا ہے کہ جن کو قرض دیا جائے گا اُن کی جائداد مکفول رکھی جائے گی مگر ہمیں ایسے لوگوں کی بھی مدد کرنا ہے جو کسی وجہ سے گر گئے ہوں اُن کا سب کچھ تباہ ہو گیا ہو، کوئی جائداد نہ ہو مگر وہ روپیہ مل جانے پر کام کر سکتے ہیں اور اپنی حالت کی اصلاح کر سکتے ہوں ایسے لوگوں کے لئے کیا انتظام ہوگا ؟ میرے خیال میں ایسی کمیٹی کی ایک برانچ ہو جس کا کام یہ ہو کہ وہ ایسے لوگوں کو قرض دے جنھیں قرض کی ضرورت ہو۔ ایسے لوگوں کے لئے ایک رقم مقرر کر دی جائے جو ماہوار کی دیتے جائیں خواہ قرض لینے کی ضرورت اُنھیں پیش آئے یا نہ آئے اور جن کو قرض دیا جائے اُن سے ضامن لیا جائے جو صاحب جائداد ہو۔ اور پھر قرض کی قسط مقرر کی جائے جو مقروض ماہواری مقررہ رقم کے ساتھ ادا کرتا جائے ۔“ حضور نے فرمایا: ”ڈاکٹر صاحب کی تجویز ایک علیحدہ تجویز ہے اس وقت ان تجاویز پر