خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 299 of 671

خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 299

خطابات شوری جلد اول ۲۹۹ مجلس مشاورت ۱۹۲۸ء تجویز کو منظور کرتے ہوئے چند سر کردہ احباب پر مشتمل ایک سب کمیٹی بنا دی تا کہ وہ سکیم کی تفاصیل طے کرے ۔ نیز فرمایا :- دو یہ ایک مفید بات ہے جس کی طرف عام طور پر ہماری جماعت کے لوگوں نے توجہ نہیں کی۔ ہندوؤں نے اس پر عمل کر کے بڑی کامیابی حاصل کی ہے۔ بوہروں نے اس سے بڑا فائدہ اُٹھایا ہے۔ ان میں جو شخص غریب ہو جاتا ہے اُسے سارے مل کر مالدار بنا دیتے ہیں اور وہ اس طرح کہ کہہ دیتے ہیں فلاں چیز سوائے فلاں کے اور کوئی نہ بیچے۔ اس طرح تھوڑے عرصہ میں ہی وہ مالدار بن جاتا ہے۔ اگر ہماری جماعت کے لوگ اس قسم کی انجمن بنائیں اور وہ ایک دوسرے کی امداد کریں تو بہت مفید ہو سکتی ہے ۔“ 66 بے کاروں کو کام مہیا کیا جائے مجلس مشاورت میں نظارت تجارت کی یہ تجویز کہ دو ” بے کاروں کو کام مہیا کیا جائے برائے غور پیش ہوئی۔ تو چند ممبران نے بحث میں حصہ لیتے ہوئے اپنی آراء پیش کیں ۔ بعض نے ملازم کرانے پر زور دیا اور بعض نے کارخانے کھولنے پر تاکہ بے کاروہاں کام کر سکیں۔ اس پر حضور نے تجویز کے ایک نقص کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا :- " اصل میں اس تجویز میں نقص معلوم ہوتا ہے اور وہ یہ ہے کہ تجویز ہے امور عامہ کے متعلق اور پیش ہو رہی ہے نظارت تجارت کی طرف سے اس لئے متضاد نقطہ ہائے نگاہ ایک دوسرے سے ٹکرا رہے ہیں۔ تاجروں نے تو اس نقطہ نگاہ کے لحاظ سے اس پر غور کیا ہے کہ تجارت میں ترقی ہو اور نام انھوں نے یہ رکھا ہے کہ اس طرح بیکاروں کو کام پر لگایا جائے۔ اور دوسروں کے سامنے لوگوں کی بیکاری ہے۔ یہ دو مختلف باتیں ہیں بیکاروں کو کام پر لگانا اور بات ہے اور وہ یہ کہ زیادہ سے زیادہ آدمیوں کے لئے کام مہیا کیا جائے اور تجارت کو ترقی دینے کا یہ مطلب ہے کہ زیادہ سے زیادہ سرمایہ جمع کر لیں ۔ بے شک تجارت میں ترقی کرنے کا لازمی نتیجہ یہ ہو گا کہ چند آدمیوں کو کام مل جائے گا مگر ہر ایک قسم کی تجارت سے سب بیکاروں کا انتظام نہیں ہو سکتا ۔ غلطی یہ ہوئی کہ یہ تجویز امور عامہ کی طرف سے پیش ہونی چاہئے تھی ۔ اس سے نظارت کو یہ مد نظر رہتا کہ بیکاروں کو کام پر لگانا ہے نہ یہ کہ