کرامات الصادقین — Page 161
كرامات الصادقين ۱۶۱ اردو ترجمہ وثانيها بحرُ رَبِّ الْعَالَمِينَ ان میں سے دوسرارَبُّ الْعَالَمِينَ کا سمندر وتغترف منها جملةُ إِيَّاكَ ہے۔ اور اس سے إِيَّاكَ نَسْتَعِينُ کا جملہ نَسْتَعِينُ۔ فإن العبد إذا مستفیض ہوتا ہے کیونکہ بندہ جب یہ بات سنتا ۷۶ سمع أن الله يُربّی ہے کہ اللہ تعالیٰ تمام جہانوں کی پرورش کرتا ہے العالمين كلها وما من اور ایسا کوئی عالم نہیں جس کا وہ مرتی نہ ہو اور وہ عالم إلا هو مربيه ورأى ( بنده) اپنے نفس کو بدی کا حکم دینے والا دیکھتا نفسه أمارة بالسوء ہے تو وہ گریہ وزاری کرتا ہے اور مجبور ہو کر اس فتضرع واضطر والتجأ کے دروازہ کی طرف پناہ ڈھونڈتا ہے۔ اس إلى بابه وتعلق بأهدابه کے دامن سے لپٹ جاتا ہے اور اس کے و دخل فــــــي مـــآدبه آداب کا لحاظ رکھتے ہوئے اس کی ( روحانی ) برعاية آدابه لیدر که ضیافت گاہ میں داخل ہو جاتا ہے تا وہ (پاک بالربوبية ويحسن إليه ذات ) اپنی ربوبیت سے اس کی دستگیری کرے وهو خيــر الــمــحسنین اور اس پر احسان فرمائے اور وہ بہترین احسان فإن الربوبية صفة کرنے والا ہے۔ پس ربوبیت ایک ایسی صفت تعطى كل شيء خَلْقَه ہے جو ہر چیز کو اس کے وجود کے مناسب حال المطلوب لوجوده ولا يغادره خلق عطا کرتی ہے۔ اور اس کو ناقص حالت میں كالناقصين۔ نہیں رہنے دیتی۔ وثالثها بحر اسم الرَّحْمنِ ان میں سے تیسرا الرحمن کا سمندر ہے وتغترف منه جملةُ اهْدِنَا اور اس سے اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ کا جملہ الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ ليكون العبد سیراب ہوتا ہے تا انسان ہدایت اور رحمت پانے من المهتدين المرحومين۔ فإن والوں میں ہو جائے کیونکہ صفت رحمانیت ہر اُس الرحمانية تُعطى كل ما يحتاج وجود کو جو صفت ربوبیت سے تربیت پا چکا ہے وہ ۲۵۳