کرامات الصادقین

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 160 of 279

کرامات الصادقین — Page 160

كرامات الصادقين ١٦٠ اُردو ترجمہ بمثاله والانصباغ بصبغه اختیار کرنا۔ اس کے رنگ سے رنگین ہونا اور فانی والخروج من النفس والأنانية في الله لوگوں کی طرح نفسانیت اور انانیت سے كالفانين۔ وسرُّه أن العبد الگ ہو جانا عبادت کی حقیقت ہے۔ اس میں راز قد خُلق کالمريض والعلیل یہ ہے کہ انسان کو بیمار اور روگی اور پیاسے کے مثل والعطشان وشفاؤه و تسکین پیدا کیا گیا ہے۔ اور اس کی شفا، اس کی پیاس کی غلته وإرواء كبدہ فی تسکین اور اس کے جگر کی سیرابی اللہ تعالیٰ کی ماء عبادت الله فلا يبرأ عبادت کے پانی سے ہوتی ہے۔ وہ تبھی صحت مند و لا يرتوى إلا إذا يَثْنِی اور سیراب ہو سکتا ہے۔ جب وہ اللہ کی طرف اپنا إليـه انــصـبــابــه ويُفرط صبابه رُخ موڑ لیتا ہے اور اس کے ساتھ اپنے عشق کو ويسعى إليه كالمستسقين۔ بڑھاتا ہے اور وہ اس ( معبود حقیقی ) کی طرف پانی ولا يطهر قريحته ولا يلبد کے طالبوں کی طرح دوڑتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے عجاجته ولا يُحلّى مُجاجَتَه ذکر کے سوا کوئی چیز نہ تو اس کی فطرت کو پاک کر إلا ذكر الله ألا بذكر الله سکتی ہے نہ اس کے غبار خاطر کو مجتمع کر سکتی ہے۔ تطمئن قلوب الذین یعبدون اور نہ اس کے منہ کا ذائقہ شیریں بنا سکتی ہے۔ الله و يأتونه مسلمین سنو! اللہ تعالیٰ کے ذکر سے ان ہی لوگوں کے دل ففي آية إِيَّاكَ نَعْبُدُ مطمئن ہوتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے إقرار لمعبودية الله الذي ہیں اور اس کے حضور فرمانبردار بن کر آتے ہیں ۔ هو مستجمع بجميع پس آیت مبارکہ إِيَّاكَ نَعْبُدُ میں اللہ تعالیٰ صفات الكاملية ولذلک کی معبودیت کا اع ریت کا اعتراف ہے جو مجمع جمیع صفاتِ وقعت هذه الجملة تحت کاملہ ہے اور اسی لئے یہ جملہ (إِيَّاكَ نَعْبُدُ ) جملة الحَمْدُ للهِ فانظر الْحَمْدُ لِلہ کے جملہ کے تحت ہے۔ پس تو غور کر ! اگر تو غور کرنے والوں میں سے ہے۔ إن كنت من الناظرين۔ ۲۵۲