مجموعہ اشتہارات (جلد 3) — Page 414
مجموعه اشتہارات ۴۱۴ جلد سوم 66 اگر میں سچا نبی نہیں ہوں تو پھر روئے زمین پر کوئی ایسا شخص نہیں ہے جو خدا کا نبی ہو۔ علاوہ اس کے وہ سخت مشرک تھا اور کہتا تھا کہ مجھ کو الہام ہو چکا ہے کہ پچیس برس تک یسوع مسیح آسمان سے اتر آئے گا اور حضرت عیسیٰ کو در حقیقت خدا جانتا تھا اور ساتھ اس کے میرے دل کو دکھ دینے والی ایک یہ بات تھی جیسا کہ میں لکھ چکا ہوں کہ وہ نہایت درجہ پر ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا دشمن تھا اور میں اس کا پرچہ اخبار لیوز آف ہیلنگ لیتا تھا اور اس کی بد زبانی پر ہمیشہ مجھے اطلاع ملتی تھی ۔ جب اس کی شوخی انتہا تک پہنچی تو میں نے انگریزی میں ایک چٹھی اس کی طرف روانہ کی اور مباہلہ کے لئے اس سے درخواست کی تا خدا ہم دونوں میں سے جو جھوٹا ہے اس کو سچے کی زندگی میں ہلاک کرے ۔ یہ درخواست دو مرتبہ یعنی ۱۹۰۲ء اور پھر ۱۹۰۳ء میں اس کی طرف بھیجی گئی تھی اور امریکہ کے چند نامی اخباروں میں بھی شائع کی گئی تھی جن کے نام حاشیہ میں درج ہیں لے لے نمبر نام اخبار مع تاریخ خلاصه مضمون (1) شکا گوانٹر پریٹر اخبار عنوان کیا ڈوئی اس مقابلہ میں نکلے گا “ دونوں تصویر میں پہلو بہ پہلو دے کر ۲۸ جون ۱۹۰۳ء لکھتا تھا کہ مرزا صاحب کہتے ہیں کہ ڈوئی مفتری ہے اور میں دعا کرنے والا ہوں کہ وہ اسے اپنی زندگی میں نیست و نابود کر دے اور پھر کہتے ہیں کہ جھوٹے اور سچے میں فیصلہ کا یہ طریق ہے کہ خدا سے دعا کی جاوے کہ دونوں میں سے جو جھوٹا ہے وہ سچے کی زندگی میں ہلاک ہو جاوے۔ (۲) ٹیلیگراف ۱۵ جولائی مرزا غلام احمد صاحب پنجاب سے ڈوٹی کو چیلنج بھیجتے ہیں کہ اے وہ شخص جو مدعی نبوت ١٩٠٣ء ہے آ اور میرے ساتھ مباہلہ کر۔ ہمارا مقابلہ دعا سے ہوگا اور ہم دونوں خدا تعالیٰ سے دُعا کریں گے کہ ہم میں سے جو شخص کذاب ہے وہ پہلے ہلاک ہو۔ (۳) ارگوناٹ سان فرانسسکو عنوان انگریزی اور عربی یعنی (عیسائیت اور اسلام) کا مقابلہ دعا مرزا یکم دسمبر ۱۹۰۳ء صاحب کے مضمون کا خلاصہ جو ڈوئی کو لکھا ہے یہ ہے کہ تم ایک جماعت کے لیڈر ہو اور میرے بھی بہت سے پیرو ہیں۔ پس اس بات کا فیصلہ کہ خدا کی طرف سے کون ہے ہم میں اسی طرح ہو سکتا ہے کہ ہم میں سے ہر ایک اپنے خدا سے دعا کرے اور جس کی دعا قبول ہو وہ سچے خدا کی طرف سے سمجھا جاوے۔ دعا یہ ہوگی کہ ہم دونوں میں سے جو جھوٹا ہے خدا اسے پہلے ہلاک کرے۔ یقیناً یہ ایک معقول اور منصفانہ تجویز ہے۔