مجموعہ اشتہارات (جلد 3) — Page 369
مجموعه اشتہارات ۳۶۹ جلد سوم میں نے زلزلہ کی پہلی خبر کو کما حقہ کیوں شائع نہ کیا اور کیوں بنی نوع کی پوری ہمدردی نہ کی ۔ اب دوسرے زلزلہ کی خبر پا کر میرا دل اس بات کے لئے بے اختیار ہو گیا کہ پہلی فروگذاشت کی اب تدارک کروں ۔ اسی غرض سے میں نے تین اشتہار شائع کئے تا لوگوں کو متنبہ کروں کہ حتی المقدور اپنے اعمال کی اصلاح کریں اور جہاں تک ممکن ہو ایسی عمارتوں سے بچیں جو دو منزل سہ منزل ہیں۔ اور اب کی دفعہ میں نے پہلی فرو گذاشت کو پورا کرنے کے لئے کئی ہزار اشتہار شائع کئے اور اخباروں میں بھی یہی مضمون شائع کرایا اور پایونیر وغیرہ انگریزی اخباروں میں بھی شائع کرا دیا۔ بلکہ اس اطلاع کے لئے ایک چٹھی بخدمت جناب لفٹنٹ گورنر بہادر اور ایک چٹھی جناب نواب لارڈ کرزن وایسرائے بالقابہ کی خدمت میں بھیجی گئی اور ابھی میں اس بات کی طرف متوجہ ہوں کہ یا تو خدا تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے اس گھڑی کو ٹال دے اور مجھے اطلاع دے اور یا پورے طور پر بقید تاریخ اور روز اور وقت اس آنے والے حادثہ سے مطلع فرمادے کیونکہ وہ ہر ایک بات پر قادر ہے۔ اب ناظرین سمجھ سکتے ہیں کہ کسی بد نیتی یا دلآزاری یا ستانے کے لئے میں نے یہ کام نہیں کیا لے اس کے واسطے کوئی تاریخ معین نہیں ہے کیونکہ خدا تعالیٰ نے کوئی خاص تاریخ میرے پر ظاہر نہیں فرمائی۔ بعض لوگوں کو غلطی لگی ہے کہ ہم نے ۱۱ سے ۱۴ مئی مقرر کی تھی مگر یہ بالکل جھوٹ ہے۔ ہم نے کوئی تاریخ نہیں لکھی۔ ایسی پیشگوئیوں میں عموماً یہی سنة الله ہے۔ چنانچہ انجیل میں بھی صرف یہ لکھا ہے کہ زلزلے آویں گے مگر تاریخ مقرر نہیں ہے ۔ مجھے اب تک قطعی طور پر یہ بھی معلوم نہیں کہ اس زلزلہ سے در حقیقت ظاہری زلزلہ مراد ہے یا کوئی اور شدید آفت ہے جو زلزلہ کا رنگ اپنے اندر رکھتی ہے۔ بہر حال اس سے خوف کرنا لازم اور احتیاط رکھنا ضروری سمجھ کر میں اب تک خیموں میں باہر جنگل میں گزارہ کرتا ہوں اور خیموں کے خریدنے اور عمارتوں کے بنانے میں ایک ہزار روپیہ کے قریب ہمارا خرچ بھی ہو چکا ہے اور اس قدر خرچ کون اُٹھا سکتا ہے بجز اس کے کہ جو سچے دل سے ایک آنے والے حادثہ پر یقین رکھتا ہے۔ مجھے بعد میں زلزلہ کی نسبت یہ بھی الہام ہوا تھا۔ پھر بہار آئی خدا کی بات پھر پوری ہوئی۔ مجھے اس پر غور کرنے سے اجتہادی طور پر خیال گزرتا ہے کہ ظاہر الفاظ وحی الہی کے یہ چاہتے ہیں کہ یہ پیشگوئی بہار کے ایام میں پوری ہوگی ۔ شاید ان تحریکات کے لئے بہار کے ایام کو کچھ خصوصیت ہوا اور ممکن ہے کہ اس وحی کے اور معنی ہوں اور بہار سے مراد کچھ اور ہو۔ منہ